نئی نسل، اردو ادب اور صحافت: سوشل میڈیا ذریعہ رہے، مرکز نہیں - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/09/28

نئی نسل، اردو ادب اور صحافت: سوشل میڈیا ذریعہ رہے، مرکز نہیں

Urdu Literature and Journalism in the Social Media Age

لکھنؤ میں 26 ستمبر کو "حرف: اے سیلی بریشن آف اسٹوریز" کے تحت میر تقی میر کی زندگی، عہد اور شاعری پر ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ کوشالا لٹریچر فیسٹیول اور لکھنؤ میوزیم آف ہیریٹیج اینڈ آرٹ کے اشتراک سے ہونے والی اس تقریب میں اجے جین اور داستان گو ہمانشو باجپئی نے میر کو صرف اشعار کی تشریح تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی زندگی، لکھنؤ کے تہذیبی ماحول اور قصہ گوئی کے ذریعے پیش کیا۔
"سمجھنے کے لیے پہلا مشکل کلاسیکی شاعر" کے بجائے، میر کو ایک انسان اور اپنے زمانے کے گواہ کے طور پر اگر "حرف" نے اس طرح متعارف کرایا ہے تو امکانات قوی ہیں کہ نئی نسل کا قاری میر کی شاعری کے مطالعے کی طرف راغب ہو سکے۔


ہم سمجھتے ہیں کہ اس تجربے میں اردو اداروں کے لیے ایک مفید اشارہ ہے۔ میر، غالب، منٹو، کرشن چندر یا عصمت چغتائی پر روایتی مقالہ خوانی یا مختص موضوع کی کتاب کا اجرا، بےشک اپنا ایک علمی مقام رکھتا ہے۔۔۔ مگر آج کے سوشل میڈیا دور میں، نئے قاری کو اردو ادب تک لانے کے لیے کہانی، شخصیت، شہر، تصویر، آواز اور اصل متن کو یکجا کرنا زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ڈیجیٹل اردو میں یہی تصور مختصر ویڈیو، صوتی پروگرام یا تصویری مضمون کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔۔۔ ایک شاعر، ایک واقعہ، ایک شعر، اس کا تاریخی پس منظر اور پھر اصل کتاب کا حوالہ۔ یوں سوشل میڈیا اصل ادب کا متبادل نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کا دروازہ بن سکے گا۔


دوسری طرف ۔۔۔۔
ہندوستان ٹائمز کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق پہلے اخبار کا مدیر یا ٹیلی وژن نیوز روم بڑی حد تک طے کرتا تھا کہ عوام آج کون سی خبریں دیکھیں گے؟ لیکن آج یوٹیوب، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دوسرے سماجی ذرائع کے الگورتھم، تخلیق کار اور خود صارف اس انتخاب میں کہیں زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔
اس تبدیلی کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ چھوٹا ناشر بھی بڑے ادارے کے بغیر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ عوام اہم خبر اور مقبول خبر کا فرق فراموش کر جائیں گے۔
جس مواد پر محبت، نفرت، برہمی، حیرت یا فوری جذباتی ردِعمل زیادہ آئے، الگورتھم اسے نسبتاً زیادہ پھیلا سکتا ہے، جبکہ پیچیدہ مگر اہم تحقیق تک سوشل میڈیا الگورتھم صرف چند ہی لوگوں کو رسائی دے سکتا ہے۔ یوں صحافت کے سامنے مسئلہ صرف جھوٹی خبر نہیں بلکہ یہ بھی اٹھے گا کہ قاری کی توجہ کس اصول کے ناتے تقسیم ہو رہی ہے؟
لہذا ۔۔۔ کم از کم اردو ڈیجیٹل صحافت کو ایک سخت مگر ضروری سبق یاد رکھنا چاہیے۔
اور وہ یہی کہ ۔۔۔ سماجی ذرائع ابلاغ کو تقسیم کا ذریعہ ضرور رکھیے مگر ادارتی مرکز نہیں۔ اصل مضمون، مستقل ربط، مصنف، تاریخ، حوالہ اور آرکائیو کسی اہم ویب سائٹ یا بلاگ پر محفوظ رکھے جائیں اور فیس بک یا واٹس ایپ پر اس کا خلاصہ قاری کو وہاں لے جائے۔ سماجی پلیٹ فارم آج بہت بڑا قاری ضرور دے سکتا ہے، مگر یہ سب پلیٹ فارمز اگر کل الگورتھم بدل دیں تو برسوں کا مواد اور اس تک رسائی دونوں بھی، مصنف یا ناشر کے اختیار میں نہیں رہتے۔


*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
28/ستمبر/2026ء

Keywords: Mir Taqi Mir, Urdu literature, Urdu digital journalism, social media algorithms, Urdu journalism, digital media India, new generation Urdu readers, Koshala Literature Festival, Lucknow literary events, Urdu literary heritage, social media and journalism, digital publishing, Urdu content online, social media distribution, journalism and algorithms, Urdu websites, digital archives, storytelling and literature, social media news consumption, future of Urdu journalism
Urdu Literature and Journalism in the Social Media Age
From Mir Taqi Mir to Digital Journalism: Reaching New Readers Without Surrendering to Social Media Algorithms

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں