فیڈریشن آف انڈین پبلشرز (نئی دہلی) کی جانب سے انڈین پبلشرز کانفرنس 2026 کا انعقاد اگست اواخر میں عمل میں آیا تھا۔ اس کی رپورٹ نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کے نیوزلیٹر میں رواں ماہ (ستمبر) کے اوائل میں جاری ہوئی ہے۔ اس کانفرنس کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت کو اشاعت کا دشمن یا متبادل نہیں، بلکہ ایک طاقت ور معاون آلہ سمجھا جائے۔ گفتگو میں واضح کیا گیا کہ اے آئی ادارتی کام، ترجمہ، میٹاڈیٹا، کتاب کی دریافت پذیری، مارکیٹنگ، قابلِ رسائی اشاعت اور پیداواری مراحل کو تیز اور نسبتاً کم خرچ بنا سکتی ہے، لیکن معتبر اور اصل مواد کی قدر اسی وقت برقرار رہے گی جب ناشر انسانی ادارتی فیصلے، معیار اور ماخذ کی صحت پر سمجھوتہ نہ کرے۔ گوگل فار ایجوکیشن کے سنجے جین نے بھی اس طرف توجہ دلائی کہ جب مشینی طور پر تیار کردہ معلومات تیزی سے بڑھ رہی ہیں تو "مستند اور قابلِ اعتماد مواد" ہی ناشروں کی اصل طاقت بن سکتا ہے۔ اسی لیے کانفرنس میں یہ تصور بار بار سامنے آیا کہ مستقبل کا کامیاب ناشر وہ نہیں ہوگا جو سب سے زیادہ مصنوعی مواد تیار کرے، بلکہ وہ ہوگا جو ٹیکنالوجی کی رفتار کو ادارتی اعتماد اور اصل علمی مواد کے ساتھ جوڑ سکے۔
دوسرا بڑا موضوع حقوقِ تصنیف، لائسنسنگ، مصنف و ناشر کا معاوضہ اور مصنوعی ذہانت میں مواد کے استعمال کا تھا۔ ماہرین نے اس سوال پر بحث کی کہ اگر کسی کتاب یا مضمون کو مصنوعی ذہانت کے نظام کی تربیت یا جواب سازی میں استعمال کیا جائے تو اصل تخلیق کار کو نسبت، اجازت اور مالی فائدہ کس صورت میں ملنا چاہیے؟ اس کے ساتھ ساتھ ناشروں کو عملی سطح پر بھی تیار ہونے کا مشورہ دیا گیا۔ افرادی قوت کو نئی مہارتیں سکھائی جائیں، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جائے، کتابوں کا میٹاڈیٹا معیاری رکھا جائے، نئے کاروباری اور آمدنی کے نمونے تلاش کیے جائیں اور حکومت، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ناشروں کے درمیان مسلسل رابطہ ہو۔
نیشنل بک ٹرسٹ کے ڈائریکٹر یوراج ملک کا بنیادی موقف یہی تھا کہ مصنوعی ذہانت آخرکار انسانی ذہانت کی بنائی ہوئی ایک ٹیکنالوجی ہے، البتہ اشاعت کی سمت طے کرنے والا فیصلہ، تخیل اور فکری ذمہ داری انسان ہی کے پاس رہنی چاہیے۔
یہ بحث اردو اشاعت کے لیے خاصی بروقت ہے۔
آج مصنوعی ذہانت سے چند گھنٹوں میں کتاب کا مسودہ، ترجمہ، سرورق، تعارف اور تشہیری متن تیار کیا جا سکتا ہے۔ نتیجہ لازماً اچھی کتاب نہیں بلکہ بہت زیادہ کتابیں بھی ہو سکتا ہے۔ جب مواد بنانا تقریباً بے قیمت ہو جائے تو معتبر مصنف، مستند متن، اچھا مدیر، اصل حوالہ اور درست کتابی معلومات کی قدر ہی میں اضافہ ممکن ہوگا۔
لہذا اردو ناشر کے لیے عملی ترجیح خاصی واضح ہونی چاہیے:
مصنوعی ذہانت سے کام کی رفتار بڑھائیے، اشاعت کی تعداد نہیں!
کسی نادر رسالے کا صحیح اشاریہ، کسی پرانی کتاب کا قابلِ اعتماد متن، اچھا ترجمہ، مکمل کتابیات یا درست ڈیجیٹل ایڈیشن۔۔۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی قدر ہزار مصنوعی کتابوں کے بازار میں بھی باقی رہ سکتی ہے۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
26/ستمبر/2026ء
AI and Urdu Publishing: Why Authentic Content and Editorial Quality Matter More Than Quantity


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں