محکمۂ اسکولی تعلیم، حکومتِ تلنگانہ کی مصدقہ سرکاری فہرست (اردو میڈیم ہائی اسکول) ستمبر 2026ء میں ایک نجی ادارے "اردو اکیڈمی جدہ، حیدرآباد چیپٹر" کو موصول ہوئی ہے۔ فہرست میں ریاست کے 31 اضلاع میں قائم 160 اردو میڈیم ہائی اسکول شامل ہیں، یعنی ایسے اسکول جہاں دسویں جماعت تک "اردو ذریعۂ تعلیم" کی سہولت دستیاب ہے۔
تعمیرنیوز اس اہم فہرست کو محض ناموں کی نقل کے طور پر نہیں، بلکہ ایک منظم اور قابلِ تلاش عوامی ڈیٹابیس کی شکل میں جلد جاری کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے قارئین ہر اسکول کا نام، متعلقہ علاقہ یا پتا، منڈل، ضلع اور پن کوڈ معلوم کر سکیں گے۔ یوں طلبہ، والدین، اساتذہ، تعلیمی کارکنوں اور اردو اداروں کو مختلف سرکاری صفحات یا غیر مرتب فہرستوں میں معلومات تلاش کرنے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔
ابتدائی جائزے کے مطابق 31 اضلاع میں مجموعی طور پر 160 اسکول قائم ہیں۔ حیدرآباد 14 اسکولوں کے ساتھ پہلے اور محبوب نگر 13 اسکولوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ پانچ یا اس سے زائد اسکول رکھنے والے دیگر اضلاع میں کاماریڈی، نظام آباد، سنگاریڈی اور وقارآباد میں فی ضلع 9؛ عادل آباد، نارائن پیٹ اور نرمل میں فی ضلع 8؛ رنگاریڈی میں 7؛ جگتیال اور کریم نگر میں فی ضلع 6؛ جبکہ کمارم بھیم آصف آباد، میدک اور ناگرکرنول میں فی ضلع 5 اسکول شامل ہیں۔ فہرست میں لڑکیوں کے 33 اسکول نشان زد کیے گئے ہیں، جو 21 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک سے زائد گرلز اسکول رکھنے والے اضلاع عادل آباد، حیدرآباد، ہنوماکنڈہ، محبوب نگر، منچریال، میدک، ناگرکرنول، نارائن پیٹ، سدی پیٹ، وقارآباد اور یدادری بھونگیر ہیں۔
کسی فہرست کو ڈیٹابیس میں تبدیل کرنا محض تکنیکی کام نہیں، بلکہ منتشر معلومات کو قابلِ استعمال علمی وسیلے میں ڈھالنا ہے۔ جس طرح ادبی رسائل کی اشاریہ سازی برسوں کے مواد کو تحقیق کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے، یا انجینئرنگ کالجوں کے داخلہ امتحانات، شاخوں اور سابقہ رینکس کا منظم ڈیٹابیس طلبہ کو درست فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے، اسی طرح اردو میڈیم اسکولوں کا یہ ڈیٹابیس بھی تعلیمی منصوبہ بندی، سرکاری پالیسی، تحقیقی مطالعے اور عوامی رہنمائی کے لیے ایک بنیادی حوالہ بن سکتا ہے۔ یہ ایک عملی نمونہ بھی ہے کہ ریاستی سطح پر اردو میڈیم اسکولوں کی فہرست کس طرح مرتب کی جا سکتی ہے؟ اسی طرز پر ملک کی دوسری ریاستوں کے اردو میڈیم اسکولوں کے ڈیٹابیس بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ہر مفید کام کا سرکاری سطح پر انجام پانا ضروری نہیں۔ محبانِ اردو، تعلیمی کارکنوں اور رضاکار اداروں کو خود آگے بڑھ کر ایسے تعمیری اور دیرپا منصوبوں سے وابستہ ہونا چاہیے۔ معلومات محفوظ ہو جائیں تو ریکارڈ رہتی ہیں، مگر منظم اور قابلِ رسائی ہو جائیں تو اجتماعی قوت بن جاتی ہیں۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
19/ستمبر/2026ء
Complete Database of 160 Urdu Medium High Schools Across 31 Telangana Districts


آپ نے بہت اہم کام کیا ہے۔ اس طرح کا ڈیٹا بیس ہندوستان کی تمام ریاستوں کا تیار ہونا چاہئے۔ اس سے اردو نظام تعلیم کے لئے لائحۂ عمل طئے کرنے میں مدد ملے گی۔
جواب دیںحذف کریںبہت شکریہ خورشید اکرم صاحب۔ ان شاءاللہ اسی ہفتے فہرست ویب سائٹ پر شائع کی جائے گی۔
حذف کریں