کیا اسدالدین اویسی واقعی خاموش رہے؟ - پانچ دعوؤں کا دستاویزی جائزہ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/09/25

کیا اسدالدین اویسی واقعی خاموش رہے؟ - پانچ دعوؤں کا دستاویزی جائزہ

asaduddin-owaisi-sir-voter-deletion-claims-fact-check

سوشل میڈیا کے مباحث میں کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کی حمایت و مخالفت میں کی جانے والی جذباتی بیان بازی کو بذاتِ خود مستند سیاسی یا صحافتی ریکارڈ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذاتی رائے، سیاسی تاثر یا پہلے سے قائم فکری نتیجے کو ایک مصدقہ حقیقت کی صورت میں پیش کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث حقیقت اور تعبیر کے درمیان فرق کرنا عام قاری کے لیے مشکل مرحلہ بنتا ہے۔ تحقیقی و تفتیشی صحافت کا بنیادی تقاضا اس کے برعکس یہ ہے کہ کسی دعوے کو قبول یا مسترد کرنے سے پہلے معتبر اخبارات، خبر رساں اداروں، پارلیمانی بیانات اور دیگر قابلِ تصدیق بنیادی ذرائع میں اصل ریکارڈ تلاش کیا جائے۔ پھر دستیاب شواہد جتنا نتیجہ اخذ کرنے کی اجازت دیتے ہوں، بات کو اتنی ہی حد تک رکھا جائے۔
زیرِ نظر جائزہ بھی اسی اصول کے تحت اس سوال کی دستاویزی جانچ ہے کہ پانچ مخصوص سیاسی معاملات میں شہر حیدرآباد کے رکنِ پارلیمان اسدالدین اویسی واقعی خاموش رہے تھے، یا اخباری ریکارڈ اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے؟


دعویٰ نمبر-1 :

ایس آئی آر کے معاملے میں اسدالدین اویسی نے کچھ نہیں کہا !


جوابی ردّ:

10 دسمبر 2025 کو لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بحث کے دوران اسدالدین اویسی نے ایس آئی آر کو "بیک ڈور این آر سی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمانی قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن شہریت کا تعین کرنے کا مجاز ادارہ نہیں اور اس عمل کے ذریعے مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
"اسدالدین اویسی نے لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) دراصل 'بیک ڈور این آر سی' ہے۔"
بحوالہ: اردو اخبار - فکروخبر، 10 دسمبر 2025: "ایس آئی آر عقبی دروازہ سے این آر سی"
بحوالہ انگریزی اخبارات:

ThePrint (10-Dec-2025) - "SIR a 'backdoor NRC' meant to disenfranchise people in name of religion-Owaisi in Lok Sabha"
Deccan Herald / PTI (10-Dec-2025) - "SIR nothing but 'backdoor NRC'; selective disenfranchisement based on religion: Asaduddin Owaisi"


دعویٰ نمبر-2 :

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے موجودہ تنازعے پر اسدالدین اویسی نے کچھ نہیں کہا !


جوابی ردّ:

23 ستمبر 2026 کو، الیکشن کمیشن کے اندر ایس آئی آر سمیت بعض فیصلوں پر دو الیکشن کمشنروں کے اختلافات کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد، اویسی نے سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کی اکثریت ہی اپنے نام پر کیے جانے والے فیصلوں سے بے خبر ہو تو ان فیصلوں کی قانونی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے سوال تھا "نگراں ادارے کی نگرانی کون کرے گا؟" اب سوال یہ ہے: "کیا کوئی نگراں ادارہ موجود بھی ہے؟"
ہندوستانی اردو صحافتی حوالے کے طور پر: اسی معاملے کی پی۔ٹی۔آئی رپورٹ سیاست ڈاٹ کام پر شائع ہوئی، جس میں اویسی کا مذکورہ بیان بعینہٖ درج ہے کہ ایس آئی آر نے غریب ترین شہریوں کے لیے بحران پیدا کیا اور انہیں ان کے دستاویزات تک محدود کر دیا ہے۔

Siasat / PTI (23-Sep-2026) - "Owaisi questions legality of EC decisions amid reports over SIR"

انگریزی اخبارات/خبر رساں ذرائع:

Daily Pioneer (23-Sep-2026) - "Owaisi questions EC's legality amid reports of internal rift over SIR"
UNI (23-Sep-2026) - "Owaisi questions ECI's credibility, raises concerns over SIR"

اس کے ساتھ ایک سابقہ پارلیمانی ریکارڈ بھی متعلق ہے: 24 ستمبر 2026 کی India Today رپورٹ کے مطابق دسمبر 2023 میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کے تقرری کے طریقۂ کار سے متعلق قانون لوک سبھا میں زیر بحث آیا تو اویسی نے اس کی مخالفت کی تھی۔

India Today (24-Sep-2026) - "Just Owaisi opposed as govt enacted CEC-selection law. Where was rest of Opposition?"


دعویٰ نمبر-3 :

ملک بھر میں ایس۔آئی۔آر کے تحت کروڑوں ووٹروں (یکم ستمبر 2026ء کا تازہ عدد: 13.37 کروڑ) کے نام انتخابی فہرستوں سے باہر ہوئے، اس پر اسدالدین اویسی نے کچھ نہیں کہا !


جوابی ردّ:

بتاریخ 3 جون 2026 کو، جب ملک کی 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے نتیجے میں خارج کیے گئے ناموں کی تعداد تقریباً 6.5 کروڑ بتائی جا رہی تھی، اسد اویسی نے اس پر باقاعدہ بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے "مستقل طور پر خارج کردہ ہندوستانیوں کا ایک طبقہ [permanent class of excluded Indians]" پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اور حقِ رائے دہی کو "طاقتوروں کے خلاف غریب کا واحد ہتھیار" قرار دیا۔ بعد میں یکم ستمبر 2026 تک انڈین ایکسپریس کے مطابق ملک کی 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈرافٹ رول سے خارج ناموں کی مجموعی تعداد 13.37 کروڑ ہو گئی۔ اس قومی عدد کے سامنے آنے کے بعد بھی اویسی ایس۔آئی۔آر پر خاموش نہیں ہوئے؛ 14 ستمبر 2026 کو اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے انہوں نے جاری ایس۔آئی۔آر کو "ایک ٹریجیڈی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو دستاویزات لے کر hearings میں حاضر ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
روزنامہ اعتماد کی 3/جون رپورٹ (مع سیاست انگریزی رپورٹ 3/جون): اسد اویسی کے مطابق دستاویزات پر مبنی ایس آئی آر کے نتیجے میں 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتخابی فہرستوں سے تقریباً ساڑھے چھ کروڑ نام خارج ہوئے؛ ان کا کہنا تھا کہ اس کا زیادہ اثر مسلمانوں، خواتین، مہاجر مزدوروں اور غریب طبقات پر پڑ رہا ہے۔
انگریزی اخبارات:

The Times of India (3-Jun-2026) - "Owaisi warns against voter exclusions in SIR"
Moneycontrol (3-Jun-2026) - "'6.5 crore names deleted': Owaisi alleges Muslim exclusion in SIR, questions 'illegal immigrants' panel"


دعویٰ نمبر-4 :

مغربی بنگال کے انتخابات اور وہاں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج ہونے کے معاملے میں اسدالدین اویسی نے کچھ نہیں کہا !


جوابی ردّ:

بتاریخ 22 مارچ 2026 کو اویسی نے مغربی بنگال کی ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 55 لاکھ افراد کی آئندہ اسمبلی انتخابات میں شرکت غیر یقینی ہے۔ پھر یکم اپریل کو کولکاتا میں انہوں نے صاف کہا: "ہم ایس آئی آر کے خلاف ہیں، ہماری رِٹ پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ الیکشن کمیشن کو کسی کی شہریت جانچنے کا اختیار نہیں؛ یہ وزارتِ داخلہ کا کام ہے۔"
اے۔این۔آئی خبر (1) کے بموجب: "ہم ایس آئی آر کے خلاف ہیں اور اس معاملے میں ہماری رِٹ پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ الیکشن کمیشن کو کسی کی شہریت جانچنے کا اختیار نہیں؛ یہ وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہے۔"
- اسدالدین اویسی، کولکاتا، یکم اپریل 2026؛ اے۔این۔آئی۔


اے۔این۔آئی خبر (2) کے بموجب: 8/ اپریل کو انہوں نے مزید مخصوص اعداد پیش کرتے ہوئے سمشیر گنج، موتھاباڑی، مانک چک اور بہرام پور سمیت مختلف حلقوں میں مسلم ووٹروں کے بڑی تعداد میں adjudication list میں ہونے کا مسئلہ اٹھایا اور لاکھوں ووٹروں کے انتخابی عمل سے باہر رہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا۔


انگریزی اخبارات:

ThePrint / PTI (22-Mar-2026) - "Owaisi alleges cancellation of 5 lakh BC certificates ahead of polls in West Bengal"
Outlook India / PTI (22-Mar-2026) - "Owaisi Alleges Cancellation Of 5 lakh BC Certificates Ahead Of Polls In West Bengal"


دعویٰ نمبر-5 :

"ووٹ چوری" اور حقیقی ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے جانے کے معاملے میں اسدالدین اویسی نے کچھ نہیں کہا !


جوابی ردّ:

اگست 2025 میں The Indian Express کے Idea Exchange میں اویسی سے براہِ راست راہل گاندھی کے "vote chori" الزامات پر سوال کیا گیا۔ جواب میں انہوں نے بتایا کہ اے آئی ایم آئی ایم کے بہار صدر اخترالایمان ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست گزار ہیں اور انتخابی فہرست سے حقیقی ووٹروں کے اخراج کے نتائج پر اعتراض کیا۔
اسی دور کی اردو رپورٹ میں اویسی کا موقف یوں نقل ہوا:
"ایس آئی آر کے ذریعے بہت سے حقیقی ووٹروں کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹ جائے گا۔ اگر ووٹر لسٹ میں نام نہیں آئے گا تو اس کی شہریت خطرے میں پڑ جائے گی۔"
بحوالہ: بی۔بی۔سی نیوز اردو (14/اگست 2025ء) - "ووٹ چوری: انتخابی فہرستوں میں جعلی ووٹرز کی شمولیت اور اہل ووٹرز کے اخراج سے متعلق الزامات جنھوں نے انڈین سیاست کو ہلا کر رکھ دیا"


انگریزی قومی اخبار (گفتگو میں 'ووٹ چوری' کے الزامات پر براہِ راست سوال شامل ہے):

The Indian Express (25-Aug-2025) - "Asaduddin Owaisi at Idea Exchange…"


حاصلِ تحقیق

دستیاب اخباری ریکارڈ سے اتنا دستاویزی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسدالدین اویسی، ایس آئی آر، ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج، مغربی بنگال میں ووٹروں کے انتخابی عمل سے باہر رہ جانے کے خدشے، اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار و قانونی اختیارات پر متعدد مرتبہ اظہارِ خیال کرچکے ہیں۔ ایس آئی آر کے بارے میں ان کا موقف محض جلسے یا سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ 10 دسمبر 2025 کو لوک سبھا میں باقاعدہ تقریر کی صورت میں پارلیمانی سطح پر بھی سامنے آیا، جہاں انہوں نے اسے "بیک ڈور این آر سی" کہا۔ جون 2026 میں تقریباً 6.5 کروڑ ناموں کے اخراج پر انہوں نے "مستقل طور پر خارج کردہ ہندوستانیوں کے طبقے" کا خدشہ ظاہر کیا۔ بنگال انتخابات سے قبل تقریباً 55 لاکھ افراد کی انتخابی شرکت غیر یقینی ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔ اور 23 ستمبر 2026 کو الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبر سامنے آنے پر کمیشن کے فیصلوں کی قانونی حیثیت اور ادارہ جاتی جواب دہی پر سوال کیا۔
چنانچہ "اسدالدین اویسی کچھ نہیں بولے" کا مطلق دعویٰ مذکورہ اخباری اور پارلیمانی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔


*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
25/ستمبر/2026ء

Keywords: Asaduddin Owaisi, Asaduddin Owaisi SIR, Owaisi voter deletion, Special Intensive Revision, SIR voter list, Election Commission of India, Gyanesh Kumar, voter list deletion India, West Bengal SIR, Telangana SIR, Hyderabad MP Owaisi, electoral roll revision, voter exclusion India, Owaisi Parliament speech, AIMIM SIR, India voter rolls, election fact check, Owaisi Election Commission
Was Asaduddin Owaisi Really Silent? A Fact-Checked Review
Was Asaduddin Owaisi Silent on SIR and Voter Deletions? Five Claims Examined Through Media Records

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں