پنجاب (بہاول نگر، پاکستان) کے ایک پروفیسر محترم (اظہر حادث) نے کشور کمار پر ایک دلچسپ مضمون تحریر کیا ہے۔ حالانکہ مضمون میں کچھ مغالطے بھی شامل ہیں۔ جبکہ مشہور فلمی رسالہ "شمع" کے پرانے رسائل میں اصل واقعات کے اشارے بھی مل جاتے ہیں۔ فی الحال کچھ واقعات کی تحقیق و تصدیق آن لائن حوالوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
مدھوبالا اور کشور کمار کی شادی اکتوبر 1960 میں ہوئی تھی، جبکہ دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی شادی، اس کے چھ سال بعد اکتوبر 1966 میں ہوئی۔ اس لیے یہ کہنا کہ دلیپ کمار نے سائرہ سے شادی کا ارادہ کر لیا تھا، چنانچہ مدھوبالا کو کشور ہی نظر آئے ۔۔۔ غلط ثابت ہوتا ہے۔
شادی کی خاطر کشور کمار کا تبدیلئ مذہب کا واقعہ مستند ذرائع سے ثابت نہیں ہے۔ خود مدھوبالا کی چھوٹی بہن مدھر بھوشن نے ٹائمز آف انڈیا کے ایک براہِ راست انٹرویو (3/جولائی 2022ء) میں اس واقعے کی صاف تردید کرتے ہوئے کہا ہے:
اظہر صاحب نے لکھا ہے کہ: "مدھوبالا کے گھر والے بھی اس رشتے سے خوش نہیں تھے"
جبکہ مدھر بھوشن کے متذکرہ بالا انٹرویو (3/جولائی 2022ء) میں اعتراف کیا گیا ہے کہ مدھوبالا کے والد شادی کے مخالف نہیں تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ پہلے لندن میں طبی معائنہ ہو، پھر شادی کی جائے۔
اس لیے پروفیسر محترم کا ایسا لکھنا "محبت کی خاطر مدھوبالا نے سب کچھ چھوڑ کر کشور کا ہاتھ تھام لیا تھا" بھی صریحاً مغالطہ انگیزی ہے۔۔
جون 2020ء کے ایک دوسرے انٹرویو (فلم فئر ڈاٹ کام) میں مدھر بھوشن کا اعتراف درج ہے کہ: مدھوبالا اور کشور کمار کی شادی ایک رجسٹرڈ میریج تھی۔ اور اسی انٹرویو میں وہ بتاتی ہیں کہ: "مدھوبالا شادی سے پہلے ہی دل کے سنگین عارضے میں مبتلا تھیں۔ ان کی بیماری کی علامات 1954ء کی فلم 'بہت دن ہوئے' کی شوٹنگ کے دوران سامنے آ چکی تھیں۔ شادی کے بعد لندن میں ماہر ڈاکٹر سے مدھو بالا نے مشورہ بھی لیا تھا۔ پھر بعد میں بعض فلموں کی شوٹنگ مکمل کرنے کی کوشش بھی کی، مگر صحت نے اجازت نہیں دی"۔ لہذا مضمون نگار کا یوں لکھنا کہ: "شادی ہوتے ہی مسلسل بستر پر آ گئیں" لفظی معنوں کے مطابق حقائق سے کچھ دور کی تشریح لگتی ہے۔
صاحبِ مضمون نے بیانیہ یوں ترتیب دیا ہے کہ مدھوبالا کی بڑھتی بیماری پر کشور کمار کے رویے میں سرد مہری بدتمیزی اور دوری پیدا ہونے ہونے لگی اور علاج کے مالی بوجھ سے وہ فرار ہونے لگے ۔۔۔ جبکہ یہ باتیں تاریخی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
کوئی بارہ تیرہ سال قبل کے فلم فئر میگزین میں مدھوبالا کی بہن مدھر بھوشن سے لیا گیا فرحانہ فاروق کا انٹرویو شائع ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں مدھر بھوشن کہتی ہیں کہ: کشور کمار مدھوبالا کو میکے چھوڑ گئے تھے، انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کاموں کی مصروفیت کے باعث مناسب دیکھ بھال نہ کر سکنے کا اعتراف کیا تھا اور ملاقاتیں بھی کم رہ گئیں۔ لیکن اسی بیان میں وہ واضح کرتی ہیں کہ کشور کمار نے کبھی بدسلوکی نہیں کی اور تمام طبی اخراجات ادا کیے۔
(مضمون فلم فئر کی ویب سائٹ پر موجود ہے، بتاریخ: 31/مئی 2013ء)
کشور کمار کو مدھوبالا کی وفات کا (درپردہ) ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پروفیسر صاحب لکھتے ہیں:
"ایک سنگدل اور بے پرواہ انسان دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا"
ہندوستان کے معروف و مقبول انگریزی ہفت روزہ "السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا" کے 1985ء کے ایک شمارے میں مشہور صحافی پرتیش نندی نے کشور کمار کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا تھا جو یادگار ثابت ہوا۔ کشور کمار کی 82 ویں سالگرہ پر ٹائمز آف انڈیا نے اس انٹرویو کی مکرر اشاعت عمل میں لائی تھی (ٹائمز آف انڈیا ویب سائٹ، 8/اگست 2011ء)۔
اس انٹرویو میں کشور کمار نے مدھوبالا کی بیماری کو جانتے ہوئے شادی کرنے اور نو برس مدھوبالا کی تیمارداری کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
بےشک، یہ ایک فریق کا اپنا بیان ہے، جسے آزادانہ تصدیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن مخالف شہادتوں (کشور کمار اور مدھوبالا کی بہن مدھر بھوشن کے بیانات) کو پیش کیے بغیر کشور کمار کو سنگدل قرار دینا یک طرفہ فیصلہ ہی کہا جائے گا۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
15/اکتوبر/2026ء
Kishore Kumar and Madhubala's Marriage: Fact-Checking Conversion Claims, Illness and Alleged Neglect


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں