عدلِ الٰہی، نماز اور نیک اعمال: آخرت کی سزا کا فیصلہ کون کرے گا؟ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/09/18

عدلِ الٰہی، نماز اور نیک اعمال: آخرت کی سزا کا فیصلہ کون کرے گا؟

Divine Justice and the Afterlife in Islam

فیس بک پر ایک معروف قلمکار کی تحریر نظر سے گزری۔ بہت سے قارئین کے نزدیک موصوف متنازع شخصیت ہیں۔ ہمارے کچھ دوست انہیں سرے سے ہی دین سے خارج کرنے پر اصرار کرتے ہیں جو کہ بالکل بھی درست بات نہیں کہ اس کا اختیار عام مسلمان کے ہاتھ نہیں ہے۔ کل کی پوسٹ کے درج ذیل چند جملے ایک دوست نے ان-بکس میں فارورڈ کرکے موصوف کے ان خیالات پر شدید احتجاج کیا:
میں جب تمام انسانی برائیوں سے اجتناب کرتا ہوں تو پھر مجھے جہنم کیوں بھیجا جائے گا؟
اگر خدا عادل ہے تو سزا اور جرم میں تناسب بھی ہونا چاہیے۔
صرف اس بنیاد پر کہ میں نماز نہیں پڑھتا، میری سزا ابدیت کیوں ہو؟
کیا خدا انسان کے الفاظ گن رہا ہے یا کردار؟


دیکھیے۔۔۔ یہ سوال اکثر و بیشتر سامنے آتا ہے کہ :
اگر کوئی شخص دیانت دار ہو، جھوٹ، ظلم اور حق تلفی سے بچتا ہو، مگر نماز اور روزے جیسے دینی فرائض ادا نہ کرتا ہو تو کیا محض ان فرائض کی خلاف ورزی اسے جہنم کا مستحق بنا دیتی ہے؟
اور کیا محدود انسانی زندگی کی خطاؤں پر ابدی سزا عدل کے تقاضوں کے مطابق ہے؟
ان سوالات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عبادات اور اخلاق کو ایک دوسرے کے مقابل نہ رکھا جائے۔ قرآن تو ایمان اور عملِ صالح کو ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے عبادت گزار کو بھی آخرت کا مفلس قرار دیا جو دوسروں کے حقوق پامال کر کے آئے (صحیح مسلم)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ عبادات ظلم کا جواز بن سکتی ہیں اور نہ حسنِ اخلاق اللہ کے مقرر کردہ فرائض کا متبادل ہے۔


اخروی سزا کے بارے میں ایک بنیادی فرق بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔
قرآن نے شرک پر مرنے والے شخص کے لیے سخت وعید بیان کی ہے، لیکن شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کی معافی اللہ کی مشیت سے متعلق قرار دی ہے (النساء: 48، 116)۔ احادیث میں ایسے اہلِ ایمان کے جہنم سے نکالے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے جن کے دلوں میں ذرّہ برابر ایمان باقی ہوگا (صحیح مسلم)۔ ترکِ نماز یقیناً معمولی معاملہ نہیں۔ اس پر احادیث میں سخت تنبیہ موجود ہے، حتیٰ کہ جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے کے اعتقادی حکم میں اہلِ علم کے درمیان کڑا اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ تاہم کسی متعین شخص کے لیے ابدی جہنم کا فیصلہ کرنا ایک الگ معاملہ ہے۔ ایمان کی حقیقت، نیت، حالات اور آخری انجام کا مکمل علم صرف اور صرف اللہ ہی کو ہے۔


کبھی یہ استدلال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ چند گھنٹوں یا چند برسوں کی نافرمانی پر سزا بھی اسی مدت کے تناسب سے ہونی چاہیے۔
لیکن آخرت کے حساب کو دنیا کے گھنٹوں، دنوں اور برسوں کی سادہ تقسیم پر آخر کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
کیونکہ قرآن کا واضح اعلان ہے:
بے شک اللہ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا (النساء: 40)۔
اسی طرح ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور برائی کے سامنے آنے کی خبر دی گئی ہے (الزلزال: 7-8)۔
اس لیے عدلِ الٰہی پر غور کرنا ایک علمی سوال ضرور ہے، لیکن اپنی نیکیوں اور گناہوں کا حساب لگا کر خود ہی سزا کی مدت متعین کر لینا ایسا دعویٰ ہے جس کی بنیاد پر کسی کو اپنے اخروی انجام کا یقین نہیں ہو سکتا۔
قرآن اسی خوداطمینانی سے متنبہ کرتا ہے:
اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے (النجم: 32) (ترجمہ: مودودیؒ)۔


اسی بحث کا ایک پہلو یہ سوال بھی ہے کہ اللہ کے نزدیک مذہبی کلمات اور ظاہری عبادات زیادہ اہم ہیں یا انسان کا کردار؟
دراصل یہ سوال ہی ایک غیر ضروری تقابل پر قائم ہے۔ محض زبان سے مذہبی کلمات دہرانا دیانت داری، سچائی اور حقوق العباد کی ادائیگی کا بدل نہیں، لیکن ان خوبیوں کی موجودگی، نماز اور دیگر دینی فرائض سے بے نیازی کا جواز بھی نہیں بن سکتی۔
قرآن نے نیکی کی جامع تصویر پیش کرتے ہوئے ایمان، عبادت، مالی ایثار، عہد کی پابندی اور مشکلات میں صبر کو ایک ہی مقام پر بیان کیا ہے (البقرہ: 177)۔
لہذا دین کو محض چند مذہبی شخصیات کی آراء یا بعض کتابوں کے بیانات تک محدود کر کے سمجھنے کے بجائے قرآن، مستند احادیث اور ان کی معتبر علمی تشریحات کی طرف رجوع ضروری ہے۔
یاد رکھا جانا چاہیے کہ ۔۔۔ سوال اٹھانا فہم کی جستجو کا حصہ ضرور ہے البتہ اس جستجو میں اپنے قائم کردہ مفروضات کو بھی جانچنا چاہیے۔ نہ کسی انسان کو کسی دوسرے کے اخروی انجام کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، نہ اپنے لیے نجات یا سزا کی مدت طے کرنے کا۔۔۔
یہ فیصلہ اللہ کے کامل علم، عدل اور رحمت ہی کے سپرد ہے۔


*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
18/ستمبر/2026ء

Keywords: Divine Justice in Islam, Islamic Concept of Justice, Afterlife in Islam, Eternal Punishment in Islam, Hellfire in Islam, Prayer and Good Deeds, Salah in Islam, Islamic Beliefs About Hell, Accountability in the Hereafter, Good Deeds and Salvation, Rights of Allah and Human Rights, Islamic Ethics, Quran on Divine Justice, Quran on Good Deeds, Forgiveness in Islam, Allah's Mercy and Justice, Islamic Teachings on Salvation, Self Righteousness in Islam, Faith and Good Deeds, Islamic Eschatology
Divine Justice and the Afterlife in Islam
Divine Justice in Islam: Prayer, Good Deeds, Hellfire and the Question of Eternal Punishment

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں