پرانی دہلی کا تاریخی اردو بازار ایک بار پھر اردو کے زندہ ادبی مکالمے کا مرکز بنا ہے۔
گذشتہ اتوار، 6/ستمبر کو نئی سلسلہ وار تقریب "اردو بازار بیٹھک" کی پہلی نشست ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے نام منعقد کی گئی۔ معروف ادیب و محقق رخشندہ جلیل نے ڈاکٹر حارث قدیر کے ساتھ اپنی کتاب Liking Progress, Loving Change کے حوالے سے ترقی پسند تحریک کی ادبی تاریخ، اس کے اہم لکھنے والوں اور بدلتے سماجی و تہذیبی تناظر پر گفتگو کی۔ جامع مسجد کے قریب اردو بازار میں اس موضوع پر گفتگو کی اپنی ایک علامتی معنویت بھی تھی، کیونکہ یہ علاقہ طویل عرصے سے اردو کتابوں، ناشروں اور کتاب فروشوں کا اہم مرکز رہا ہے۔
اس نشست کی ایک خاص بات اس کی روایتی ادبی جلسوں سے مختلف صورت تھی۔ تقریب کو رسمی سیمینار یا طویل خطابات کے بجائے تقریباً دو ڈھائی گھنٹے کی محدود اور باقاعدہ ٹکٹ یافتہ ادبی بیٹھک بنایا گیا، جس میں عام شرکا کے لیے داخلہ فیس 500 روپے اور طلبہ کے لیے 100 روپے رکھی گئی تھی۔ نشست کے تمام مقامات کا فروخت ہو جانا اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اردو کی سنجیدہ ادبی اور فکری گفتگو کے لیے آج بھی ایسے سامعین موجود ہیں جو معیاری مکالمے میں نہ صرف دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ اس کے لیے قیمت ادا کرنے پر آمادہ بھی ہیں۔
"اردو بازار بیٹھک" کا تجربہ اردو کے ادبی اداروں اور تنظیموں کے لیے بھی قابلِ غور ہے۔ محض بڑے جلسے، رسمی صدارت، متعدد تقاریر اور اظہارِ تشکر ہی ادبی سرگرمی کی واحد صورت نہیں۔ کسی ایک اہم کتاب، ادبی تحریک، مصنف یا فکری مسئلے کو مرکز بنا کر محدود سامعین کے ساتھ تفصیلی اور بامعنی گفتگو شاید زیادہ دیرپا علمی نتیجہ پیدا کر سکتی ہے۔ البتہ ایسی تقریبات کی حقیقی افادیت اسی وقت بڑھتی ہے جب ان کا ریکارڈ محفل ختم ہونے کے ساتھ ختم نہ ہو جائے۔۔۔ بلکہ موضوع، مقررین، زیرِ بحث کتاب، تاریخ، مقام، تصاویر، گفتگو کے اہم نکات اور متعلقہ حوالوں کو مستقل طور پر محفوظ بھی کیا جائے۔
یہیں اردو کی موجودہ علمی سرگرمی کو ڈیجیٹل دستاویز بندی سے جوڑنے کی ضرورت سامنے آتی ہے!
ادبی تقریبات اور مباحث کا قابلِ تلاش آن لائن ریکارڈ، اردو رسائل و جرائد کے موضوعاتی اور مصنف وار اشاریے، مختلف ادوار اور منتخب موضوعات پر شائع ہونے والی کتابوں کی مستند کتابیات، تحقیقی مواد کے ڈیجیٹل ڈیٹابیس اور تحقیق کے قابل اردو متنی کارپس۔۔۔ یہ سب الگ الگ منصوبے نہیں بلکہ ایک ہی علمی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔
سائبر دنیا میں بلاشبہ اردو میں مواد کی کمی نہیں ہے۔ اصل کمی اس مواد کو منظم، محفوظ، باہم مربوط اور قابلِ تلاش بنانے کی ہے۔ "اردو بازار بیٹھک" جیسی سرگرمی اگر محفل سے آگے بڑھ کر ایسے مستقل علمی ریکارڈ کا حصہ بنے تو ایک شام کی ادبی گفتگو آنے والے محقق کے لیے بھی کارآمد علمی سرمایہ بن سکتی ہے۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
10/ستمبر/2026ء
Delhi’s Urdu Bazaar Baithak Revisits the Progressive Writers’ Movement with Rakhshanda Jalil


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں