"آج کل اردو" کو قومی اعزاز: اردو اشاعت میں متن کے ساتھ معیارِ طباعت بھی کیوں اہم ہے؟
اردو زبان کے مستقبل پر گفتگو عموماً دو انتہاؤں کے درمیان گھومتی رہتی ہے۔ ایک طرف یہ شکایت سنائی دیتی ہے کہ اردو کی مطبوعہ دنیا سکڑ رہی ہے، رسائل کے قارئین کم ہو رہے ہیں اور کتابوں کی اشاعت محدود ہوتی جا رہی ہے؛ دوسری طرف یہ خیال تیزی سے مقبول ہوا ہے کہ اردو کا اصل مستقبل اب صرف ویب سائٹس، برقی کتابوں اور سماجی ذرائع ابلاغ میں ہے۔ لیکن حکومتِ ہند کے شعبۂ مطبوعات (Publications Division) کو حال ہی میں ملنے والے قومی اعزازات اس تصویر کا ایک مختلف رخ سامنے لاتے ہیں۔ حکومتِ ہند کے پریس انفارمیشن بیورو کی 25 اگست 2026ء کی سرکاری خبر کے مطابق، شعبۂ مطبوعات نے فیڈریشن آف انڈین پبلشرز ایوارڈز فار ایکسی لینس اِن بک پروڈکشن 2026 میں مجموعی طور پر سات اعزازات حاصل کیے ہیں۔ ان میں ہندی، انگریزی اور اردو کی کتابیں، رسائل اور حوالہ جاتی مطبوعات شامل ہیں۔ خاص طور پر اردو کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ "آج کل اردو - جولائی 2026" کو "جرائد و ادارہ جاتی رسائل - ہندوستانی زبانیں (اردو)" کے زمرے میں تیسرا انعام دیا گیا ہے۔
اصل سرکاری خبر: پریس انفارمیشن بیورو
Publications Division Wins 7 Honors at FIP Excellence in Book Production Awards 2026
اس اعزاز کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ ایک معروف اردو رسالے کو قومی سطح پر سراہا گیا۔ اصل توجہ انعام کی نوعیت پر ہونی چاہیے۔ یہ بنیادی طور پر کتابی و اشاعتی تیاری کے معیار (Book Production) کا اعزاز ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق شعبۂ مطبوعات کو ملنے والے سات اعزازات میں چار دوسرے اور تین تیسرے انعامات شامل ہیں، اور اس کامیابی کو ادارے کے اشاعتی امتیاز، اداراتی معیار اور مواد کے تنوع سے جوڑا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کسی کتاب یا رسالے کی قدر صرف اس میں شائع ہونے والے متن سے متعین نہیں ہوتی؛ اس کی ادارت، ترتیب، حروف نگاری، صفحہ آرائی، طباعت، سرورق اور مجموعی اشاعتی پیش کش بھی اس کی شناخت کا حصہ ہیں۔ "آج کل اردو" کا جولائی 2026ء کا شمارہ اسی وسیع تر اشاعتی تناظر میں اعزاز یافتہ قرار پایا ہے۔
یہاں اردو کے موجودہ مباحث کے لیے ایک اہم سبق پوشیدہ ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع نے بلاشبہ اردو تحریر کو غیر معمولی وسعت دی ہے۔ آج ایک مضمون یا کتاب کا تعارف چند لمحوں میں دنیا کے مختلف ملکوں تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ برقی ذخائر نے نایاب کتابوں اور رسائل تک رسائی کے ایسے امکانات پیدا کیے ہیں جن کا چند دہائیاں پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مطبوعہ کتاب یا رسالہ اپنی ثقافتی اہمیت کھو چکا ہے۔ "آج کل اردو" جیسے سرکاری اردو رسالے کا ہندوستان کی قومی اشاعتی صنعت کے ایک باقاعدہ مقابلے میں اعزاز حاصل کرنا بتاتا ہے کہ مطبوعہ اردو اور ڈیجیٹل اردو ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ اردو کے علمی و ثقافتی وجود کی دو تکمیلی صورتیں ہیں۔ ایک طرف ویب رسائی، تلاش اور فوری دستیابی فراہم کرتا ہے؛ دوسری طرف معیاری مطبوعہ اشاعت متن کو ایک مرتب، مدون اور نسبتاً پائیدار ثقافتی دستاویز میں تبدیل کرتی ہے۔
اسی مقام پر ایک اور مسئلہ سامنے آتا ہے جسے اردو دنیا میں عموماً نظرانداز کیا جاتا ہے: کتابیاتی معلومات (Bibliographic Metadata)۔ ہم کسی اردو کتاب یا رسالے کا ذکر کرتے ہوئے اکثر صرف نامِ کتاب، مصنف یا مدیر اور سنِ اشاعت لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن تحقیق اور دستاویز بندی کے نقطۂ نظر سے یہ معلومات ناکافی ہیں۔ ایک سنجیدہ اشاعتی ریکارڈ میں ناشر، مقامِ اشاعت، بین الاقوامی معیاری کتابی نمبر (ISBN)، صفحات کی تعداد، اشاعت یا ایڈیشن، جلد بندی، کتابی حجم یا فارمیٹ، زبان، موضوع، قیمت اور بعض صورتوں میں طباعت یا اشاعتی ادارے کی تفصیلات بھی اہم ہوتی ہیں۔ مستقبل کا محقق صرف یہ نہیں جاننا چاہے گا کہ فلاں کتاب 2026ء میں شائع ہوئی تھی؛ وہ یہ بھی معلوم کرنے کا خواہش مند ہو سکتا ہے کہ کتاب کا پہلا ایڈیشن کون سا تھا، ناشر کون تھا، کتنے صفحات تھے، کس شکل میں شائع ہوئی اور بعد میں اس کے کتنے نئے ایڈیشن سامنے آئے۔
یہی وجہ ہے کہ اردو کے ڈیجیٹل تحفظ کو محض کتابوں یا رسائل کے پی۔ڈی۔ایف محفوظ کرنے تک محدود رکھنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت منظم، قابلِ تلاش اور باہم مربوط اشاعتی معلومات کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر مستقبل میں کوئی محقق یہ جاننا چاہے کہ 2021ء سے 2030ء کے درمیان ہندوستان میں اردو افسانے کے کتنے مجموعے شائع ہوئے، ان میں دہلی، حیدرآباد، لکھنؤ یا ممبئی کے ناشروں کا تناسب کیا تھا، کن کتابوں کے دوسرے ایڈیشن شائع ہوئے، یا کس ناشر نے ایک مخصوص عرصے میں سب سے زیادہ اردو کتابیں شائع کیں، تو یہ معلومات صرف اسی وقت چند لمحوں میں حاصل ہوسکیں گی جب آج سے ہر کتاب کا ریکارڈ منظم کتابیاتی خانوں کے ساتھ محفوظ کیا جائے۔ یوں اردو کا ڈیٹابیس محض "کتابوں کی آن لائن فہرست" نہیں رہے گا بلکہ ہندوستان میں اردو اشاعت کی تاریخ کا قابلِ جستجو دستاویزی ذخیرہ بنتا چلا جائے گا۔
راقم الحروف مکرم نیاز نے مئی 2026ء میں اپنے مضمون "اردو رسائل کی ڈیجیٹل اشاریہ سازی: تحقیق کا نیا ویب انقلاب" میں اسی بنیادی تصور کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اردو دنیا کو جامد فہرستوں اور پی۔ڈی۔ایف فائلوں سے آگے بڑھ کر ساخت یافتہ معلومات (Structured Data)، قابلِ تلاش ڈیٹابیس اور مربوط علمی ریکارڈ کی طرف جانا ہوگا۔ وہاں رسائل کے مضامین کو مصنف، موضوع، شمارہ، ماہ و سال اور کلیدی الفاظ کے ذریعے قابلِ تلاش بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی؛ یہی اصول اردو کتابوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔
چنانچہ ہندوستان میں شائع ہونے والی اردو کتابوں کے مجوزہ ڈیٹابیس کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے صرف کتاب، مصنف اور سنِ اشاعت محفوظ کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ابتدا میں محدود معلومات کے ساتھ منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے، لیکن ڈیٹابیس کی ساخت ایسی ہونی چاہیے کہ آگے چل کر ناشر، آئی۔ایس۔بی۔این (ISBN)، صفحات، طباعت/ایڈیشن اور کتابی فارمیٹ جیسے کتابیاتی خانے آسانی سے شامل کیے جا سکیں۔ مزید آگے بڑھیں تو موضوعاتی درجہ بندی، مقامِ اشاعت، قیمت اور مختلف ایڈیشنوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے۔ تب یہ منصوبہ محض اردو کتابوں کی ایک فہرست نہیں رہے گا بلکہ بتدریج ہندوستانی اردو اشاعت کا باقاعدہ ڈیجیٹل ریکارڈ بن سکتا ہے-ایسا ریکارڈ جس سے آج کا قاری کتاب تلاش کرے، ناشر اپنی اشاعت درج کرے، اور آنے والی نسلوں کا محقق ہندوستان میں اردو کتاب کی اشاعتی تاریخ کو اعداد و معلومات کی بنیاد پر سمجھ سکے۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
30/اگست/2026ء
Ajkal Urdu Magazine Wins FIP Award 2026: Why Publishing Quality and Bibliographic Records Matter


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں