خالد جاوید، ادبی سرقہ اور اثر: حوالہ جاتی کتاب کیا کہتی ہے؟ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/08/28

خالد جاوید، ادبی سرقہ اور اثر: حوالہ جاتی کتاب کیا کہتی ہے؟

literary-plagiarism-influence-steal-like-an-artist

دو اور دو پانچ!

یہ ایک بالی ووڈ فلم کا نام ہے۔ امیتابھ بچن اور ششی کپور کی کامیڈی فلم جو فروری 1980ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ مزیدار فلم تھی، لڑکپن میں چند کزنز کے ساتھ ہمارے ایک انکل نے تھیٹر لے جاکر دکھائی تھی۔ آج پتا نہیں کیوں اس فلم کا نام یاد آ گیا۔ شاید یہیں فیس بک پر کسی جگہ پندرہ کتابوں کا ذکر ہو اور نام گنائے جائیں صرف 14 کتب کے۔
ہمارے دوست اشعر نجمی تو صاف کہتے ہیں کہ مکرم نیاز فلموں کے آدمی ہیں۔ ایک اور دوست (پڑوسی ملک) احمد خلیق بھی جھجھکتے جھجھکتے کمنٹ کر جاتے ہیں کہ: مکرم بھائی، آپ کسی بھی موضوع پر کسی نہ کسی بہانے فلم کا ذکر نکال لاتے ہیں۔
لیکن صاحب! سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں طنز و مزاح پسند ہے۔ فلم سے زیادہ!
اور ہم مشتاق احمد یوسفی کو اس میدان کے بادشاہ سلامت مانتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایک فقرہ ایسا ہے کہ ہزاروں فلموں اور سینکڑوں کتابوں پر بھاری ہے۔ قبلہ یوسفی فرماتے ہیں:

"مزاح نگار اس لحاظ سے بھی فائدے میں رہتا ہے کہ اس کی فاش سے فاش غلطی کے بارے میں بھی پڑھنے والے کو یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ ممکن ہے ، اس میں بھی تفنن کا کوئی لطیف پہلو پوشیدہ ہو ، جو غالباً موسم کی خرابی کے باعث اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا"۔

کل ہمارے عزیز دوست نے اپنی تازہ فیس بک پوسٹ میں پندرہ کتب کا ذکر کر کے چودہ کتابوں کے نام دئے اور ساتھ ہی بچارے معصوم اردوداں قارئین کو چیلنج کیا کہ: پہلے یہ سب پڑھیے اور اس کے بعد آئیں بات کرنے!
خیر، جلدبازی میں ایک نام چھوٹ گیا ہوگا۔ ویسے ایک مشہور فلمی فقرہ بھی تو ہے:
"بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں، سینوریٹا!"


ہمارے دوسرے عزیز دوست شکیل رشید سے اس غریب نے کچھ مکالمہ کرنا چاہا تو انہوں نے بھی پلٹ کر، ڈپٹ کر فرمایا کہ: پہلے وہ پندرہ کتب پڑھیں، پھر آئیں۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے بھائی۔ ہم ان کتب پر اپنے تاثرات اپنی ویب سائٹ پر محفوظ کریں گے، اور جلد!
مگر۔۔۔ پہلے ایک ضروری بات تو ہو جائے۔ شکیل رشید بھائی نے راقم کی پوسٹ کے اپنے کمنٹ میں لکھا ہے:
"اشعر نجمی کی پانچوں قسطوں سے یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ خالد جاوید اوریجنل فکشن نگار نہیں ہیں، ان کے تمام ناولوں پر غیر کے اثرات ہیں اور بہت گہرے اثرات ہیں، جبکہ میں اب تک انہیں اوریجنل سمجھتا تھا ۔"
ارے بھائی، معاف کرنا، یہاں پھر مجھے لیجنڈ راج کمار یاد آ گئے، انہوں نے ایک جگہ فرمایا تھا:
ہم تمہیں ماریں گے اور ضرور ماریں گے، لیکن وہ بندوق بھی ہماری ہوگی، گولی بھی ہماری ہوگی اور وقت بھی ہمارا ہوگا!!


شکیل بھائی، آپ نے اپنے وقت میں، اپنی بندوق سے، اپنی گولی سے ٹھائیں کر کے خالد جاوید کی "اوریجنلٹی" کو مار گرایا۔ قصہ ختم! اللہ اللہ خیر صلا۔
مگر شکیل بھائی سے ایک چھوٹا سا سوال ہے: کیا آپ نے خود ان چودہ کتب میں سے کوئی ایک کتاب پڑھی ہے، جنہیں پڑھنے کا آپ دوسروں کو مشورہ دے رہے ہیں؟


اشعر بھائی کا بہت شکریہ کہ انہوں نے چودہ دلچسپ کتابوں کی طرف رہنمائی کی۔ مگر سوال یہ ہے کہ: کیا یہ ساری کتابیں اشعر نجمی کے موقف کی موافقت یا وضاحت کرتی ہیں؟
آئیے، اس فہرست کی صرف آخری کتاب پر کچھ بات کر لیتے ہیں۔

Book: Steal Like an Artist; 10 Things Nobody Told You About Being Creative
Author: Austin Kleon
Publisher: Workman Publishing Company
Publication: 28 February 2012
Pages: 160
ISBN: 978-0-7611-6925-3

واضح رہے۔۔۔ اس کتاب کا موضوع plagiarism کی نظریاتی یا قانونی تحقیق نہیں ہے۔
ناشر اس کتاب کو یوں قرار دیتا ہے:

"an inspiring guide to creating in the digital age" [Link]

(ڈیجیٹل دور میں تخلیق کاری کے لیے ایک بہترین رہنما)


جبکہ مصنف اپنی ویب سائٹ پر اپنی کتاب کا تعارف یوں دیتے ہیں:

Steal Like An Artist: The New York Times best-selling manifesto for creativity in the digital age. [Link]

(فنکار کی طرح اخذ کیجیے: ڈیجیٹل دور میں تخلیق کاری کے لیے نیو یارک ٹائمز کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی رہنما کتاب)


گوگل بکس پر ناشر اس کتاب کی سرکاری وضاحت کے بطور لکھتا ہے:

"Nothing is original, so embrace influence, school yourself through the work of others, remix and reimagine to discover your own path." [Link]

(کوئی چیز مکمل طور پر اصل نہیں ہوتی، لہذا اثرات کو قبول کیجیے، خیالات جمع کیجیے، انہیں نئے امتزاج میں ڈھالیے اور ازسرِنو تصور کر کے اپنی تخلیقی راہ دریافت کیجیے۔)


اب ۔۔۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اشعر نجمی نے اس کتاب Steal Like an Artist کو ان کتابوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کے مطالعے سے، ان کے بقول، "تصوراتی سرقے" اور "تعمیری تصرف" جیسے مباحث کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جبکہ خود اس کتاب کا مرکزی مقدمہ اس سادہ مفروضے کی تائید نہیں کرتا کہ کسی سابقہ تخلیق کار سے خیال، اثر یا تخلیقی تحریک اخذ کرنا بذاتِ خود تخلیقی انفرادیت کی نفی یا سرقے کا ثبوت ہے۔
اس کے برعکس کتاب کی سرکاری وضاحت ہی درج ذیل انگریزی اصطلاحات:

"Nothing is original"، "embrace influence"، "school yourself through the work of others"، "remix" and "reimagine"

جیسے تصورات کو تخلیقی عمل کے لازمی مراحل کے طور پر سامنے لاتی ہے۔
گویا مصنف آسٹن کلیون کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ ایک فنکار نے اپنے پیش روؤں سے کچھ اخذ کیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس نے حاصل شدہ اثرات، خیالات اور تخلیقی مواد کو کس طرح جذب کیا، نئے سیاق میں رکھا، ازسرِنو مرتب کیا اور اپنی الگ تخلیقی صورت میں ڈھالا؟
یقیناً اس اصول کو کسی حقیقی ادبی سرقے کے دفاع کا پروانہ نہیں بنایا جا سکتا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اثر کی موجودگی کو فی نفسہٖ "غیر اصل تخلیق" یا "سرقے" کا ثبوت قرار دینے والی مساوات خود اسی کتاب کے بیان کردہ تصورِ تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
چنانچہ Steal Like an Artist کو "تصوراتی سرقے" کے الزام کی تائیدی سند کے طور پر پیش کرنے کے بجائے، زیادہ درست طور پر اسے اثر، اخذ، امتزاج، بازتخلیق اور تخلیقی انفرادیت کے باہمی تعلق پر گفتگو کرنے والی کتاب سمجھا جانا چاہیے۔


آخری بات ۔۔۔ جمعہ کے بریانی لنچ بعد اتفاق سے دفتری سیٹ پر بیٹھے بیٹھے غنودگی آئی اور ہم خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئے۔ اللہ قسم کوئی غلط سلط کام نہیں ہوا خواب میں۔۔۔ بلکہ قبلہ یوسفی کو دیکھا جو ایک آنکھ میچ کر سرگوشی میں فرما رہے تھے: ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا !!


تازہ اضافہ / Update
28 اگست 2026، رات 10:00 بجے

Good Theft اور Bad Theft کے حوالے سے اشعر نجمی صاحب کے تازہ اعتراض اور اس کے بعد ہونے والی گفتگو کی روشنی میں درج ذیل وضاحت اصل مضمون میں شامل کی جا رہی ہے، تاکہ زیرِ بحث حوالہ اور اس پر ہمارا موقف مکمل صورت میں ریکارڈ پر رہے۔

اچھی چوری، بری چوری: Austin Kleon کے معیار کو مکمل طور پر پڑھنے کی ضرورت

اس بحث کے بعد اشعر نجمی صاحب نے ایک اہم اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر Steal Like an Artist کو مکمل طور پر پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ Austin Kleon ہر طرح کے تخلیقی اخذ یا اثر کو جائز قرار نہیں دیتے، بلکہ وہ باقاعدہ "Good Theft" اور "Bad Theft" کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں۔ اشعر صاحب کے الفاظ میں، یہی فرق خالد جاوید کے مداحوں کے لیے "تازیانۂ عبرت" ہے۔

یہاں اشعر نجمی صاحب کی بنیادی نشاندہی درست ہے۔ Kleon واقعی اپنی کتاب میں Good Theft vs. Bad Theft کا ایک واضح خاکہ پیش کرتے ہیں۔ خود Austin Kleon نے اپنی ویب سائٹ پر بھی اس چارٹ کو Steal Like an Artist کا خلاصہ قرار دیتے ہوئے دوبارہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق فرق کچھ یوں بنتا ہے:

Good Theft Bad Theft
Honor Degrade
Study Skim
Steal from many Steal from one
Credit Plagiarize
Transform Imitate
Remix Rip off

لیکن اصل سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے، ختم نہیں ہوتا۔ Kleon کا چارٹ کسی مخصوص ادیب کو خودکار طور پر "سارق" قرار نہیں دیتا؛ وہ ایک کسوٹی فراہم کرتا ہے جسے ہر مخصوص مثال پر الگ الگ لاگو کرنا پڑتا ہے۔

خود Kleon نے بعد میں اس تصور کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ inspiration اور rip-off کے درمیان فرق سمجھانے کے لیے وہ اسی چارٹ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل قدر transformation میں ہے: سابقہ مواد کو اس طرح تبدیل کرنا کہ اس سے کوئی نئی تخلیقی صورت وجود میں آئے۔ ان کے الفاظ میں:

"It’s transformation that is flattery: taking what you’ve stolen and turning it into something new."

Kleon اس سلسلے میں T. S. Eliot کے معروف تصور کو بھی بنیاد بناتے ہیں، جس کے مطابق کمزور شاعر محض imitation کرتا ہے، جبکہ طاقت ور شاعر سابقہ مواد کو اس طرح جذب کرتا ہے کہ وہ ایک مختلف اور نئی کلیت کا حصہ بن جائے۔ Kleon اسی لیے imitation کے مقابلے میں transformation کو اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کی اپنی ویب سائٹ پر اس تصور کی یہی تشریح موجود ہے۔
Austin Kleon: Good Theft vs. Bad Theft

خالد جاوید کے معاملے میں اس معیار کا اطلاق کیسے ہوگا؟

اگر اشعر نجمی صاحب Steal Like an Artist کو خالد جاوید کے خلاف حوالہ جاتی بنیاد کے طور پر پیش کرتے ہیں، تو پھر Kleon کے پورے معیار کو اختیار کرنا ہوگا، صرف "Bad Theft" کے لفظ کو نہیں۔

ہر مبینہ ماخذ کے بارے میں ناقد کو الگ الگ یہ دکھانا ہوگا کہ معاملہ:

  • Study کا تھا یا محض Skim کا؟
  • متعدد تخلیقی اثرات سے اخذ ہوا یا صرف ایک ہی source کی پیروی کی گئی؟
  • اصل مواد کو Transform کیا گیا یا صرف Imitate کیا گیا؟
  • مختلف اثرات کو Remix کرکے نئی ساخت دی گئی یا معاملہ واقعی Rip off کا ہے؟
  • اور جہاں کسی مخصوص ماخذ کا واضح اور نمایاں استعمال ثابت ہو، وہاں acknowledgement یا credit کی نوعیت کیا ہے؟

یہ distinction اس لیے اہم ہے کہ خالد جاوید پر ہونے والی موجودہ تنقید میں خود متعدد ممکنہ مآخذ اور اثرات گنوائے گئے ہیں—کافکا، کامیو، تارکوفسکی، باشلار، سوزن سانٹاگ، پولانسکی، نیل گیمن اور دوسرے نام۔ اگر واقعی کسی ناول کی تشکیل میں متعدد ادبی، فلسفیانہ اور بصری ذرائع باہم جذب ہوکر ایک نئی ساخت پیدا کرتے ہیں، تو Kleon کے اپنے چارٹ میں یہ صورت محض "Steal from one / Imitate / Rip off" کے خانے میں خود بخود نہیں چلی جاتی۔

دوسری طرف، اگر کسی مخصوص مثال میں یہ ثابت کردیا جائے کہ ایک منفرد تخلیقی ساخت کسی ایک سابقہ تصنیف سے تقریباً اسی صورت میں لی گئی، اسے خاطر خواہ تبدیل نہیں کیا گیا، اور اس کی نسبت بھی چھپائی گئی، تو یہی چارٹ اس پر سخت سوال اٹھانے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے Steal Like an Artist کو نہ تو ہر borrowing کے دفاع کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور نہ ہر similarity کو plagiarism قرار دینے کے لیے۔

اصل اختلاف کہاں ہے؟

اصل اختلاف یہ نہیں کہ Good Theft اور Bad Theft کا فرق موجود ہے یا نہیں۔ یہ فرق موجود ہے، اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اختلاف اس بات پر ہے کہ خالد جاوید کے زیرِ بحث ناولوں میں پیش کیے گئے شواہد Kleon کے کس خانے میں آتے ہیں۔

صرف یہ دکھا دینا کہ کسی ناول میں کسی سابقہ کتاب، فلم، اسطور یا فلسفیانہ تصور سے مماثلت موجود ہے، ابھی Bad Theft ثابت نہیں کرتا۔ اگلا اور زیادہ اہم مرحلہ یہ دکھانا ہے کہ مصنف نے اس سابقہ مواد کے ساتھ کیا کیا: کیا اسے محض نقل کیا، یا اسے سمجھا، تبدیل کیا، نئے سیاق میں رکھا اور دوسرے اثرات کے ساتھ ملا کر ایک نئی تخلیقی ساخت میں ڈھالا؟

اسی لیے Kleon کا حوالہ خالد جاوید کے خلاف کوئی تیار شدہ فیصلہ فراہم نہیں کرتا؛ بلکہ ناقد پر ایک اضافی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اب اسے ہر مخصوص مثال میں دکھانا ہوگا کہ معاملہ "Study, Transform, Remix" کا نہیں بلکہ "Skim, Imitate, Rip off" کا ہے۔

اور شاید یہی Steal Like an Artist سے اس پوری بحث کے لیے سب سے مفید سبق ہے: اثر کا وجود فیصلہ نہیں؛ اثر کے ساتھ کیا گیا تخلیقی برتاؤ فیصلہ کن سوال ہے۔

*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
28/اگست/2026ء

Keywords: Khalid Javed, Ashar Najmi, Austin Kleon, Steal Like an Artist, literary plagiarism, conceptual plagiarism, literary influence, originality in literature, creative borrowing, intertextuality, literary criticism, Urdu literature, Urdu fiction, creative influence, remix and reimagine, plagiarism debate
Khalid Javed, Plagiarism and Literary Influence
Khalid Javed and Literary Plagiarism: What "Steal Like an Artist" Actually Says About Influence

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں