ابن صفی کے تخلیق کردہ کرداروں (عمران/فریدی اور دیگر) پر دوسرے مصنفین کے ناول لکھنے کی بحث میں ایک جملہ بار بار سننے کو ملتا ہے:
"کردار جس مصنف نے تخلیق کیا، اس کی اجازت کے بغیر اس کردار پر لکھنا 'غیر قانونی' ہے۔"
بات بظاہر بہت صاف سیدھی ہے۔ مگر قانون کی دنیا میں معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔
آئیے ذرا پاکستان کے مشہور فلمی کردار "مولا جٹ" کے کیس پر غور کیا جائے۔ جب نئی فلم "دی لیجنڈ آف مولا جٹ" منظرِ عام (ریلیز: اکتوبر 2022ء) پر آئی تو پرانی فلم "مولا جٹ (ریلیز: 1979ء)" سے وابستہ حقوق، کرداروں، ناموں اور مکالموں پر قانونی تنازع کھڑا ہو گیا۔ معاملہ لاہور ہائی کورٹ جا پہنچا۔ اگر اصول صرف اتنا ہوتا کہ:
"کردار جس نے پہلے تخلیق کیا، حق ہمیشہ اسی کا ہے"
تو فیصلہ شاید بہت آسان ہوتا۔ مگر عدالت کے سامنے سوال کہیں زیادہ پیچیدہ تھے:
فلم کے حقوق کس کے پاس ہیں؟ ادبی کام کے حقوق کس کے؟ نام اور کردار کا قانونی دائرہ کیا ہے؟ مختلف فریقوں کے معاہدے کیا کہتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنازع بالآخر (عدالت سے باہر) باہمی سمجھوتے سے ختم ہوا۔ اس لیے 'مولا جٹ' کا معاملہ ایسے کسی حتمی عدالتی فیصلے کی نظیر نہیں بنا جسے سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکے کہ پاکستانی عدالت نے 'افسانوی کرداروں [Fictional Characters]' کے حقوق کے بارے میں کوئی قطعی عمومی اصول طے کر دیا ہے۔
اب سرحد کے اِس پار ہندوستان کا ایک اور زیادہ دلچسپ مقدمہ دیکھیے۔۔۔ مشہور کردار "شکتی مان" کا۔
یہاں معاملہ ڈائمنڈ کامکس اور راجا پاکٹ بکس (راج کامکس) کے درمیان دہلی ہائی کورٹ تک پہنچا۔ شکتی مان کے پروڈیوسر (مکیش کھنہ) نے باقاعدہ تحریری معاہدے کے ذریعے ڈائمنڈ کامکس کو اس کردار کی تصویری کہانیاں شائع کرنے کے خصوصی حقوق دیے تھے۔ بعد میں یہی کردار دوسری تصویری اشاعت میں استعمال ہوا تو تنازع عدالت پہنچا۔ اس مرتبہ عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیا، دوسرے فریق کو شکتی مان کے کردار کی ایسی اشاعت سے روکا اور ڈائمنڈ کامکس کے حق میں ہرجانہ بھی مقرر کیا۔
مگر یہاں ایک نہایت اہم نکتہ پوشیدہ ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ:
"دنیا میں جس شخص نے بھی کسی دوسرے مصنف کا کردار استعمال کیا، وہ خودبخود مجرم ہے۔"
شکتی مان کے مقدمے میں عدالت کے سامنے تحریری معاہدہ، خصوصی اشاعتی حقوق، ان حقوق کی منتقلی اور متنازع اشاعت موجود تھی۔ یعنی عدالت نے نعرے کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ دیکھ کر فیصلہ کیا کہ متعلقہ حق کس کے پاس تھا اور دوسرے فریق نے اس حق میں کہاں مداخلت کی؟
آئیے اب واپس ابن صفی کے کرداروں کی نقالی کرنے والے مصنفین کے مقدمے کی طرف لوٹتے ہیں۔
علی عمران، کرنل فریدی، کیپٹن حمید اور دیگر کردار (صفدر، جوزف، سلیمان، جولیا، فیاض، بلیک زیرو، سرسلطان، قاسم، سنگ ہی، تھریسیا) بلاشبہ ابن صفی کے تخلیق کردہ معروف و مقبول کردار ہیں۔ یہ بھی ایک اہم تاریخی حقیقت ہے کہ ابن صفی نے اپنی زندگی ہی میں اپنے کرداروں پر دوسرے مصنفین کے لکھنے کی مخالفت کی، بعض کے بارے میں عدمِ اجازت واضح کیا اور قانونی راستہ بھی اختیار کیا۔ اس لیے ان کے حقوق کے سوال کو معمولی سمجھنا درست نہیں۔
لیکن اصل قانونی سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے، ختم نہیں ہوتا۔
کیا محض علی عمران کا کردار استعمال کر لینا ہی قانوناً جرم تھا؟ یا یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ متعلقہ مصنف نے اصل تخلیق کا کتنا حصہ لیا، کس نوعیت کی کتاب لکھی، اس وقت کون سا قانون نافذ تھا، حقوق کس کے پاس تھے، ابن صفی نے کن مخصوص افراد کے خلاف اعتراض یا قانونی کارروائی کی، اور کسی عدالت نے کن معاملات میں واقعی حقوقِ تصنیف کی خلاف ورزی قرار دی؟
اور پھر ایک اور سوال:
اگر ابن صفی نے چند مخصوص مصنفین کو اپنی اجازت نہ دینے کی صراحت کی تھی، تو کیا اسی شہادت کی بنیاد پر بعد میں تصنیف کی گئی تین سو سے زائد مصنفین کی پوری فہرست کے ہر مصنف کو بہ یک جنبشِ قلم "غیر قانونی مصنف" قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہیں سے معاملہ جذباتی وابستگی سے نکل کر ادبی تاریخ، حقوقِ تصنیف اور قانونی شہادت کا ایک خاصا دلچسپ مسئلہ بن جاتا ہے۔
مولا جٹ (خالق: ناصر ادیب) کا نام سب جانتے تھے، شکتی مان کا خالق (مکیش کھنہ) بھی کسی سے پوشیدہ نہیں تھا، اور عمران/فریدی کو ابن صفی سے الگ کر کے بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ مگر عدالت میں سوال یہ نہیں ہوتا کہ: "دنیا کیا جانتی ہے؟"
بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ قانون کیا تحفظ دیتا ہے، حق کس کے پاس تھا، اس کی خلاف ورزی کیسے ہوئی، اور اس کا ثبوت کیا ہے؟ بغیر عدالتی فیصلے کے، قارئین یا عوام کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ فلاں فلاں مصنف کی تصنیف/تصنیفات کو "غیر قانونی" ڈیکلئر کر دیں۔ ابن صفی نے اپنے ناولوں کے پیش لفظ (بعنوان: پیش رس) میں بھی اور خود ناولوں کے ذریعے بھی بار بار اپنے قارئین کی تربیت کی کہ قانون کے حق اور اس کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے، اپنی مرضی چلانے کے بجائے قانون کا احترام کیا جائے۔ حیرت کی بات ہے کہ ابن صفی کے محبان کو اپنی عقیدت ضرور محبوب ہے مگر اپنے محبوب کی نصیحت پر عمل پیرا ہونا منظور نہیں؟
راقم الحروف نے اردو ویکی پیڈیا جیسے معروف آن لائن انسائیکلوپیڈیا کی تشکیل کے ابتدائی زمانے میں اس کے اصولوں سے مناسب واقفیت حاصل کی تھی۔ ویکیپیڈیا کے بنیادی اصولوں میں صاف درج ہے کہ:
ویکی پیڈیا کسی بھی معاملے میں خود "جج" نہیں بن سکتا۔ یعنی: براہِ راست "غیر قانونی" لکھنا ویکیپیڈیا کے اپنے اصولوں کے مطابق واضح ترین خامی ہے۔
وہاں کسی بھی جملے کو حتمی رائے کے طور پر لکھنے کے بجائے اس طرح لکھا جاتا تو شاید بہتر تھا: "ابن صفی کے ورثا یا ناشرین کے مطابق یہ ناول ان کی اجازت کے بغیر لکھے گئے"۔
یہی سبب ہے کہ راقم کے متوجہ کرنے پر اردو ویکی پیڈیا کے متذکرہ صفحہ پر اب ایک "وارننگ نوٹس" چسپاں کر دی گئی ہے۔
اس موضوع پر تحریرکردہ اپنے پہلے تفصیلی مضمون کے بعد، اب اسی موضوع کی دوسری قسط زیرِ ترتیب ہے، جس میں ابن صفی کے 'نقال مصنفین'، پاکستانی حقوقِ تصنیف کے قانون، خود ابن صفی کے بیانات و قانونی اعتراضات، مولا جٹ اور شکتی مان کے مقدمات، اور "غیر مجاز"، "غیر قانونی"، "سرقہ" اور "جرم" کے درمیان قانونی فرق کو دستاویزی حوالوں کے ساتھ واضح کیا جائے گا۔
*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
20/اگست/2026ء
Ibn-e-Safi Characters, Copyright Infringement and the Legal Question of Unauthorized Fiction


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں