نوجوان نسل کی بےچینی - جین زی کے مسائل - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/08/01

نوجوان نسل کی بےچینی - جین زی کے مسائل

exam-corridor-gen-z-anger-emotional-control
** جنریشن زی آخر چاہتی کیا ہے؟ **

آج کے ایک پوسٹ گریجویٹ امتحان کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس نئی نسل کی سوچ کی ایک جھلک مجھے دکھا دی ہے، وہ بھی بالکل غیر متوقع انداز میں۔
بات ہنگامے سے شروع ہوئی۔
میرے ساتھ والے امتحانی کمرے میں ایک طالب علم بغیر ایڈمٹ کارڈ کے پہنچ گیا تھا۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے وہ نگران عملے سے الجھ پڑا اور اونچی آواز میں اپنے "تعلقات" کا رعب جھاڑتے ہوئے زبردستی امتحان میں بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کا شور پوری راہداری میں گونج رہا تھا جس کے باعث آس پاس کے کمروں کا سکون برباد ہو چکا تھا۔
معاملہ سنبھالنے کے لیے میں باہر نکلا ہی تھا کہ میرے کمرے سے ایک طالب علم غصے میں باہر آیا اور چیخ کر بولا:
"یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ہم امتحان دے رہے ہیں یا یہ کوئی جنگل ہے؟"
میں نے اسے واپس جانے کا اشارہ کیا، مگر اس کا جواب مجھے چونکا گیا:
"مجھے اپنی فَک۔۔۔ انگلی مت دکھائیے۔"
بس، یہیں بات ختم ہو گئی۔ میں نے اس کی جوابی کاپی لے لی اور اسے امتحان گاہ سے باہر کر دیا۔
جاتے جاتے اس نے کہا: "امتحان جائے بھاڑ میں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
تقریباً دس منٹ بعد وہ ایک دیگر امتحانی افسر کے ساتھ واپس آیا، جو اس کے لیے ایک اور موقع مانگ رہے تھے۔ اس دوران میں اس کی کاپی دیکھ چکا تھا - حیرت انگیز طور پر وہ بہت ہی عمدہ جوابات لکھ رہا تھا، یعنی وہ کوئی کمزور طالب علم نہیں تھا۔
میں نے کہا، "پہلے میں اس سے بات کروں گا۔"
پھر میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا: "تمہارا یہ امتحان جاری رہنا یا نہ رہنا میرے ہاتھ میں ہے۔ اگر میں نے کاپی واپس نہ کی تو تمہارا پورا سال ضائع ہو جائے گا۔"
اس نے فوراً جواب دیا: "ایم اے کر کے میرا کوئی خاص مستقبل نہیں بننے والا، اس لیے مجھے ڈرانے کی کوشش مت کیجیے۔"
میں ٹھٹھک گیا۔ اس کی آواز میں غصہ تھا، مگر اس غصے کے پیچھے کچھ اور بھی تھا - کچھ گہرائی میں، کچھ دبا ہوا سا۔


میں نے اسے کاپی واپس کر دی اور اسے امتحان جاری رکھنے کا موقع دے دیا۔ امتحان کے بعد میں نے اسے باہر رکنے کو کہا۔ وہ رک گیا۔ میں نے نرمی سے پوچھا:
"برا نہ ماننا، میں واقعی تمہاری نسل کو سمجھنا چاہتا ہوں۔ تم لوگ اتنے غصے میں کیوں رہتے ہو؟"
اس نے فوراً جواب دیا: "سر، شور کی وجہ سے میرا دھیان بٹ گیا تھا۔"
میں نے کہا: "ٹھیک ہے، مگر تم باہر کیوں آئے؟ جبکہ یہ نگران کاروں کی ذمہ داری تھی اور میں خود یہ معاملہ دیکھ رہا تھا۔"
اس کا جواب غیر متوقع تھا: "سر، سب نگرانوں میں آپ مجھے ایک حقیقی استاد لگے۔"
میں مسکرا دیا۔
وہ بولا: "جب آپ نے میری کاپی پر دستخط کیے تو آپ نے میری غلطیاں بھی بتائیں۔ پہلے کبھی کسی نے ایسا نہیں کیا تھا۔ مجھے لگا آپ واقعی اپنے طلبا کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن جب آپ نے ہنگامہ نہیں روکا اور الٹا مجھے ڈانٹ دیا تو میں اپنے آپ پر قابو کھو بیٹھا تھا۔"


بات کا رخ بدل چکا تھا۔ میں نے پوچھا:
"کس امتحان کی تیاری کر رہے ہو؟"
جواب ملا: "سول سروسز۔"
میں نے کہا: "میں نے تمہارے جواب پڑھے ہیں، تم ایک نہایت قابل طالب علم ہو۔ مگر یاد رکھنا، صرف علم کافی نہیں ہوتا۔ یہ امتحان صرف ذہانت نہیں، جذباتی پختگی بھی مانگتا ہے۔ اگر تم اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے تو لوگوں اور حالات کو کیسے سنبھالو گے؟"
وہ خاموش ہو گیا۔ پھر آہستہ سے بولا:
"سر۔۔۔ ہم کیا کریں؟ اساتذہ پڑھاتے نہیں۔۔۔ والدین کے پاس وقت نہیں۔۔۔"


اس کی بات ادھوری رہ گئی۔ اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔
پھر اس نے ایسا جملہ ادا کیا جو شاید میں کبھی بھول نہ سکوں:
"مجھے معاف کر دیجئے سر۔۔۔ آپ میرے باپ جیسے ہیں۔"
میں نے اسے گلے لگا کر کہا: "شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں۔ تمہاری عمر میں جذبات پر قابو کھونا عام ہے، مگر جس راستے پر تم ہو وہ غیر معمولی صلاحیتیں مانگتا ہے۔ ان پر کام کرو۔ میری نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں۔"


جاتے ہوئے اس نے میرے پاؤں چھوئے، اور اس لمحے، میرے دل کو بھی اس نے گویا چھو لیا۔
آج مجھے ایک بات سمجھ آئی:
یہ نسل گمراہ نہیں ہے، اسے دراصل سنا نہیں گیا ہے۔
ان کے غصے کے پیچھے بے چینی ہے،
اکڑ کے پیچھے تنہائی،
اور بغاوت کے پیچھے ایک خاموش خواہش، کہ۔۔۔
بغیر کوئی فیصلہ سنائے، کوئی انہیں سمجھنے کی کوشش کرے۔


ہماری نوجوان نسل کو صرف بہتر ادارے نہیں، بہتر مکالمہ بھی چاہیے۔
انہیں ایسے بڑوں کی ضرورت ہے جو ان کے رویے سے آگے بڑھ کر ان کے اندر کے انسان کو دیکھ سکیں۔
اگر ہم ان پر اعتماد کریں، ان کی رہنمائی کا فریضہ نبھائیں اور ان سے دوبدو گفتگو کریں، محض ان کی اصلاح نہ کریں، تو وہ ہمیں حیران کر سکتے ہیں۔
شاید اس نسل کی سب سے بڑی خوبی یہ نہیں کہ وہ غلطیاں نہیں کرتی،
بلکہ یہ ہے کہ جب کوئی سچے دل سے ان تک پہنچے،
تو وہ رک کر سوچ بھی سکتی ہے،
معافی بھی مانگ سکتی ہے،
اور خود کو بہتر بھی بنا سکتی ہے۔


اور یہی بات مستقبل کی امید کو جگاتی ہے !!

*****
(ایک ماہر تعلیم فرحان رحمان کی انگریزی فیس بک پوسٹ کا آزاد اردو ترجمہ، از: مکرم نیاز)
28/جولائی/2026ء

Keywords: Gen Z anger, exam hall incident, university corridor, invigilator dispute, student misconduct, emotional intelligence, youth behavior, exam discipline, teacher student conflict, civil services aspirants, education news, campus incident
Gen Z Anger in Exam Hall
Exam Corridor Incident Raises Questions About Gen Z, Teachers, and Emotional Control

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں