علامہ البانیؒ کا دعوتی منہج: نرمی، حکمت، اور اسلامی تحریکوں پر توازن - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/07/10

علامہ البانیؒ کا دعوتی منہج: نرمی، حکمت، اور اسلامی تحریکوں پر توازن

al-albani-daawah-moderation-islamic-movements

علامہ ناصرالدین البانیؒ (پیدائش: 16/اگست 1914ء، البانیہ - وفات: 2/اکتوبر 1999ء، اردن)
عصرِ حاضر کے محدث جلیل رہے ہیں۔ ایک دفعہ ان سے ایک مکالمے (عربی سے اردو ترجمہ: طارق علی بروہی) کے دوران دریافت کیا گیا:
"مجھے صرف اور صرف سلفیوں سے غرض ہے کہ ان میں سے شدت پسندی کرنے والے اور اپنے دشمنی والے اسلوب کی وجہ سے سلفی منہج سے لوگوں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔۔۔ آپ ایسے سلفیوں کو نصیحت کیجئے جو شدت پسندی اور تنگ دلی کا شکار ہیں۔"
اس پر شیخ ناصر الدین البانیؒ نے جواب دیا:
بارک اللہ فیک۔ مجھ جیسا شخص کیا نصیحت کرے گا جبکہ سلفیوں اور غیرسلفیوں کو یہ آیت نصیحت کر رہی ہے کہ:
﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (النحل: 125)
(اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اوراچھے کلام کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طور پر بحث مباحثہ کرو جو بہت احسن ہو)
اور یہ حدیث سب جانتے اور پڑھتے ہیں یعنی سیدہ عائشہؓ کا واقعہ کہ جب کسی یہودی نے رسول اللہ ﷺ پر سلام کیا اپنی زبان کو ٹیڑھا کرتے ہوئے : السام علیکم کہا (یعنی تم پر موت ہو)۔ یہ ٹیڑھی زبان کے ساتھ کیا گیا سلام آپ رضی اللہ عنہا نے سن لیا تو پردے کے پیچھے انتہائی غصہ میں آ گئیں بلکہ شدید غصہ میں گویا پھٹ پڑیں اور جواباً ارشاد فرمایا: "(تم پر موت، اللہ کا غضب اور لعنت ہو اے بندرو اور خنزیر کے بھائیو)"۔ جبکہ رسول اللہﷺ نے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ "وَعَلَيْكُمْ" (تم پر بھی یہی ہو) سے زیادہ کچھ نہ فرمایا۔
جب وہ یہودی رسول اللہﷺ کے پاس سے چلا گیا تو آپﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فعل پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ : "(اے عائشہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوشنما بنا دیتی ہے اور سختی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے بدنما بنا دیتی ہے)۔ اس پر بی بی عائشہؓ نے فرمایا: "یا رسول اللہﷺ کیا آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا"، اس پر آپﷺ نے فرمایا: اور کیا تم نے سنا نہیں جو میں نے جواب دیا، میں نے کہا: تم پر بھی ہو یعنی جو کچھ تم نے کہا وہی۔


پھر علامہ البانیؒ نے آگے فرمایا:
"۔۔۔ فکری اور علمی زاویے سے آپ کو کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جو آپ سے اس بات پر جھگڑے کہ دعوت الی اللہ میں اصل اصول تو نرمی، اچھی بات و موعظت ہونی چاہیے لیکن جو بات اہمیت کی حامل ہے وہ اس کی عملی تطبیق ہے۔ اس تطبیق کے لئے کسی مربی و مرشد (استاد) کی ضرورت ہے جس کے تحت دسیوں طالب علم تربیت پائيں اور وہ ان سے دست شفقت کے تحت تربیت پاکر فارغ ہوں اور پھر دوسروں کی اسی طرح سے تربیت کریں ۔ اور پھر اسی طرح سے صحیح اسلامی تربیت کی رفتہ رفتہ ترویج ہو۔
اور بلاشبہ یہ بات جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا آسان نہیں بلکہ:
﴿وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴾ (حم السجدۃ: 35)
(یہ خوبی تو نہیں ملتی مگر اسے جو صبر کرے اور یہ نہیں ملتی مگر اسے ہی جو بڑے نصیبوں والا ہو)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں امت وسط (میانہ رو امت) بنا دے جو کسی افراط و تفریط کا شکار نہ ہو۔"
اور اسی انٹرویو کے دوران علامہ البانی نے یہ بھی کہا تھا کہ ۔۔۔
"۔۔۔ بہت کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شدت سے مستقل طور پر بچ سکیں، لیکن حق بات تو یہی ہے کہ دعوت میں اصل اصول حکمت اور اچھے طور پر وعظ و نصیحت کرنا ہی ہے۔ اور حکمت کا یہ تقاضہ ہے کہ نرمی کو اس کے مقام پر رکھا جائے اور شدت کو اس کے مقام پر رکھا جائے (نہ کہ ہمیشہ نرمی ہی کرتے رہنا)۔"


اور یہی علامہ البانی ہیں جنہوں نے مولانا مودودیؒ کی حیات میں تحریرکردہ کتاب کے مقدمہ میں لکھا تھا:
(پردے کے) مسائل کے مجموعے سے یہ رسالہ اپنی نوعیت کا منفرد رسالہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اگر اس جیسی کوئی کتاب ہے تو وہ علامہ مودودی کی کتاب "پردہ" ہے اور میری یہ کتاب "مسلمان عورت کا پردہ" ہے۔
(بحوالہ: نماز میں عورت کا پردہ اور لباس، ناشر: ابوبکر قدوسی، سنہ اشاعت: مئی 2000ء، صفحہ:12)


دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر علمائے طبقۂ اہل حدیث نے "پردہ" کے معاملے میں مولانا مودودیؒ کے موقف کی تائید و حمایت کی ہے اور علامہ البانیؒ کے موقف سے دوری اختیار فرمائی۔ خاص طور پر مولانا عبدالرحمٰن کیلانیؒ نے اپنی کتاب "احکام ستر و حجاب" میں علامہ البانی کی ایک ایک دلیل کا علمی ردّ پیش کیا ہے اور مولانا مودودیؒ کے موقف ہی کو قبول کیا ہے۔
بعض عربی کتب میں اور یوٹیوب پر موجود کچھ ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ۔۔۔
علامہ البانیؒ، مولانا مودودیؒ کو "دعوتی و فکری" سطح پر اسلام کی خدمت کرنے والی شخصیت اور ایک تحریک کے "شیخ" کے طور پر دیکھتے ہیں (جماعة الشيخ أبي الأعلى المودودي)، اور ان کی جماعت کے افراد کو اہلِ دعوت و اہلِ غیرتِ دینی سمجھتے ہیں۔


یاد رہے کہ علامہ البانیؒ کے مکتبِ فکر کا بنیادی نکتہ جو معروف و مقبول ہے، وہ یقیناً یہی ہے کہ:
اسلامی تحریکوں کی شخصیات (حسن البنا، مودودی، سید قطب وغیرہ) کے کام میں خیر اور تجدیدی پہلو کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ان کا اجتہاد معیارِ حق مانا نہیں جائے گا، بلکہ قرآن و سنت ہی اصل معیار ہیں؛ اس لیے ان کے افکار کو بلا نقد قبول کرنا درست نہیں، اور نہ انہیں مجدد مان کر ان کے نظریات کو وحی کے برابر سمجھنا جائز ہے۔ تحریکیں اگر "حزبیت" اور اندھی جماعتی وفاداری کی شکل اختیار کر جائیں، تو وہ حق سے دور ہو جاتی ہیں۔ جس کا علاج یہ ہے کہ ہر جماعت اپنے آپ کو کتاب و سنت اور منہجِ سلف کے سامنے جواب دہ سمجھے، اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لیے علمی نقد قبول کرے۔

*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
10/جولائی/2026ء

Keywords: Al-Albani, Muhammad Nasiruddin al-Albani, da’wah methodology, moderation in Islam, Islamic movements, Salafi manhaj, softness in دعوت, Islamic reform, Maududi, Islamic activism, moderation and wisdom, Salafi scholars
Albani’s Da'wah Manhaj
Al-Albani's Balanced Approach to Da'wah, Moderation, and Islamic Movements

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں