سبّ، الزام اور نصیحت: قرآنی رہنمائی اور اعتدال کی راہ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/07/03

سبّ، الزام اور نصیحت: قرآنی رہنمائی اور اعتدال کی راہ

Islamic Guidance on Avoiding Abuse, False Accusation, and Speaking with Wisdom

اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں، ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔ (سورہ الانعام، آیت:108 ، اردو ترجمہ: تفہیم القرآن، مولانا مودودیؒ)

امام ابن کثیرؒ، امام قرطبیؒ اور امام رازیؒ ۔۔۔ نے اس آیت کی تفسیر میں جو لکھا ہے، اس کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ: اس آیت کا مقصود ایسے طرزِ کلام سے روکنا ہے جو بڑے فتنے کو جنم دے؛ یعنی مشرکوں کے معبودوں کو گالی دینے سے وہ جواباً اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے، اس لیے دعوت اور ردّ دونوں میں حکمت، مصلحت، اور مفسدہ سے بچاؤ لازم ہے۔
ابن کثیر کے ہاں زور اس بات پر ہے کہ بظاہر درست بات بھی اگر بڑی مفسدت پیدا کرے تو روکی جا سکتی ہے۔ قرطبی کے ہاں اس آیت سے سبب بننے والے شخص کے گناہگار ہونے اور سدّ الذرائع کا اصول نکلتا ہے۔ رازی کے ہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ داعی کو ایسا انداز اختیار کرنا چاہیے جو لوگوں کو دین سے متنفر نہ کرے، ورنہ وہ اپنے مقصد کے خلاف کام کرے گا۔


متذکرہ بالا قرآنی آیت کے ذیل میں مفسرین نے خاص طور پر کہا کہ: وعظ و نصیحت ایسے انداز میں ہو جس سے ضد اور فساد پیدا نہ ہو، نصیحت اگر الٹا فساد کا سبب بنے تو اس سے اجتناب کیا جائے، آیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ زبان کا استعمال دین کے بڑے نقصان کا سبب نہ بنے۔


بےشک اس آیت کا اصل سیاق مشرکین کے معبودوں سے متعلق ہے؛ مگر کسی مسلکی مناظرہ میں اس مفہوم کو لفظی طور پر نہیں بلکہ اصولی طور پر برتا جائے تو اتنی غیرمناسب بات بھی نہیں۔ کیونکہ اس آیت کے مفہوم پر قیاس کرتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ:
دوسرے مسلک/شخصیت کی وفات پر تبرا بازی اور سبّ و شتم سے اکثر جوابی ردِعمل پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ ردِعمل کبھی ہماری اپنی مسلکی شخصیات کی توہین تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے شرعاً حکمت یہی ہے کہ زبان/قلم ایسی چیز سے روکا جائے جو مزید فساد پیدا کرے۔
یعنی خلاصہ یہ کہ ۔۔۔ ان تینوں تفاسیر سے ایک ہی اصول نکلتا ہے: بلا مصلحت اشتعال انگیز سبّ ممنوع ہو سکتا ہے۔ اگر اس سے زیادہ بڑا فساد پیدا ہونے کے امکانات ہوں تو ایسے سبّ و شتم کو چھوڑ دینا شرعاً درست ہے، یہی آیت بعد کے فقہی و اختلافی مباحث میں جوابی ردعمل، فرقہ وارانہ کشیدگی، اور تحقیر سے بچنے کے لیے دلیل بنتی ہے۔


عام مسلمان بالعموم اور بالخصوص احادیث پر صدقِ دلی سے عمل کرنے اور عمل کی ترغیب دلانے والے طبقے کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی ذاتِ گرامی کی اہمیت شارع علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مانی اور باور کرائی جاتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ان بابرکت ہستیوں کے فیوض، جس دین کا علم ہم تک بذریعہ احادیث پہنچا، اس کے معنی و مفہوم پر کسی کو غور و فکر کی عادت نہیں ہے۔۔۔ یہاں بھی تقلید کا وہی عالم ہے کہ ہمارے عالم صاحب، مفتی صاحب، مولانا/شیخ محترم نے چونکہ فلاں فلاں پر نقد کیا ہے، اس پر تبرا کیا ہے، اس کی توہین و تضحیک کی ہے، لہذا یہ جائز ہے اور ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔


جیسا کہ برصغیری روایت ہے کہ ۔۔۔ اپنے ملک سے حبّ الوطنی جتانے کے لیے پڑوسی ملک پر تبرا بازی ضروری ہے۔۔۔ ایسا ہی ایک طبقے کے نام لیواؤں نے ان دنوں اپنا رویہ بنا رکھا ہے۔ صحابہ کرام سے محبت کا اظہار یوں کیا جا رہا ہے کہ ان کے دشمنوں پر تبرا بازی کی جائے، چاہے وہ حیات ہوں کہ فوت شدہ۔ اب چاہے ایسے عمل کے نتیجے میں معاشرے میں انتشار پھیلتا ہو یا فرقہ وارانہ کشیدگی کو عروج ملتا ہو، اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں۔


نوجوان عوامی طبقے کو چھوڑ دیجیے، وہ کم علم ہے، جذباتی ہے، سوشل میڈیا بہکاوے میں جلد گرفتار ہو جاتا ہے۔ مگر ہمارا سوال داعیان اور علمائے دین کے اس سوشل میڈیا طبقے سے ہے جس نے اپنے محبان اور متبعین کی موزوں و مناسب دینی و اخلاقی تربیت کرنے کے بجائے انہیں اپنا اندھ بھکت بنا رکھا ہے اور اپنی اور دوسروں کی ٹائم لائن پر تبرا بازی کے لیے بلاروک ٹوک کھلا چھوڑ رکھا ہے۔


مرنے والا چاہے کتنا بھی بڑا گناہکار یا دشمنِ دین کیوں نہ ہو، دین نے یہ اصول واضح کر رکھا ہے کہ مُردے پر سب و شتم نہیں کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا اور عمومی علمی و دینی میدان کی کچھ معروف شخصیات نے "سبّ" کی محض محدود لغوی تعریف پیش کی ہے، یعنی اسے صرف ماں/بہن کی گالی باور کراتے ہوئے اسے ممنوع قرار دیا ہے۔ حالانکہ شارحینِ حدیث کی حدیثی و شرعی مراد اس سے زیادہ وسیع ہے۔ حدیث "لا تسبوا الأموات" میں شارحین نے "سبّ" کو محض فحش گالی نہیں سمجھا، بلکہ میت کی تنقیص اور بدگوئی کے عموم پر محمول کیا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ اگر کسی میت کے بارے میں شرعی مصلحت سے اس کا عیب بیان کرنا ہو تو وہ "سبّ" نہیں بلکہ تحذیر ہے۔
اسی طرح "دجال، رافضی خبیث، دشمنِ صحابہ، محرف، منکر حدیث" جیسے الفاظ اگر تحذیرِ شرعی کے طور پر ہوں تو بعض اہلِ علم نے انہیں تنقیص/بدعتی بیان کے تحت دیکھا ہے؛ لیکن انہیں ہر حال میں "سبّ" کے جواز کی عام دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ شرعی بحث میں اصل فرق سبّ اور تحذیر/جرح کے درمیان ہے۔ اس لیے "سبّ" کو محض 'ماں بہن کی گالی' تک محدود کرنا شارحین کے استعمال کے مطابق نہیں ہے۔
ائمۂ دین کی کتب میں تحذیر کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ کسی مخاطب کو ایک ناپسندیدہ/مضر چیز سے خبردار کیا جائے تاکہ وہ اس سے بچے۔ اور فقہی و شرعی استعمال میں اس کا رخ نصیحت، تنبیہ، اور بچاؤ کی طرف ہوتا ہے۔ اس بنا پر دینی مباحث میں تحذیر کا مطلب کسی شخص کو محض گالی دینا نہیں، بلکہ لوگوں کو اس کے شر، غلطی، یا انحراف سے بچانا ہے۔ گمراہ و گناہگار افراد کے افکار و نظریات کو بیان کرکے ان کا ردّ کرنا بھی تحذیر کی تعریف میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ تحذیر کا شرعی مقام یہ ہے کہ یہ دین کی حفاظت اور عوام کی رہنمائی کا ذریعہ ہے مگر اس کا بنیادی مقصد ایذا، انتقام یا سبّ نہیں ہے بلکہ حفاظتِ دین اور سدِّ فتنہ ہے۔
دوسری طرف ۔۔۔ علومِ حدیث میں "جرح" کا مطلب راوی کے ایسے عیوب بیان کرنا ہے جو اس کی روایت کو ساقط یا کمزور کر دیں، اور تحذیر اسی جرحی عمل کا مقصدی پہلو ہے: یعنی دوسروں کو اس راوی یا اس کے اثرات سے بچانا۔ اہلِ علم نے جرح کو شرعی ضرورت تو قرار دیا، لیکن ساتھ ہی اس کی حد بھی رکھی کہ جتنی ضرورت ہو اتنی ہی جرح کی جائے، اس سے آگے بڑھنا جائز نہیں۔
تحذیر اور جرح کا رخ حفاظت کی طرف ہوتا ہے، نصیحت کا رخ اصلاح کی طرف، اور سبّ کا رخ عموماً ایذا کی طرف ہوتا ہے۔ چونکہ سبّ کے اصل معنی اہانت، بدزبانی، گالی یا تحقیر ہیں، لہذا سبّ کو تحذیر یا جرح کے برابر نہیں رکھا جاتا۔ اور اسی لیے سبّ کی شرعی حیثیت اصلاً ممنوع ہے، سوائے بعض محدود فقہی مباحث کے، جن میں بھی احتیاط لازم ہوتی ہے۔


مُردے کی برائی بیان کرنے کے جواز میں صحیحین کی ایک حدیثِ یوں بھی بیان کی جاتی ہے:
"لوگ ایک جنازے کے پاس سے گزرے اور اس کی تعریف اچھے الفاظ میں کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ پھر ایک دوسرے جنازے کے پاس سے گزرے اور اس کے بارے میں برا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا واجب ہوگئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی تم نے اچھائی بیان کی تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور اس شخص کی تم نے برائی بیان کی تو اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی؛ تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔"
حالانکہ شارحینِ حدیث اس حدیث کو شہادت (گواہی) کے ضمن میں بتاتے ہیں جو کہ تحذیر (یا تنبیہ) ہی کی ایک شکل ہے۔ اس سے سب و شتم والی احادیث کا ردّ نہیں ہوتا جیسا کہ ابن حجر عسقلانی کی تشریح ہے:

«أَفْضَوْا» أي وَصَلُوا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ خَيْرٍ أَوْ شَرٍّ، وَاسْتُدِلَّ بِهِ عَلَى مَنْعِ سَبِّ الأَمْوَاتِ مُطْلَقًا، وَقَدْ تَقَدَّمَ أَنَّ عُمُومَهُ مَخْصُوصٌ، وَأَصَحُّ مَا قِيلَ فِي ذَلِكَ أَنَّ أَمْوَاتَ الْكُفَّارِ وَالْفُسَّاقِ يَجُوزُ ذِكْرُ مَسَاوِيهِمْ لِلتَّحْذِيرِ مِنْهُمْ وَالتَّنْفِيرِ عَنْهُمْ، وَقَدِ اجْتَمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى جَوَازِ جَرْحِ الْمَجْرُوحِينَ مِنَ الرُّوَاةِ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا»

عوام کے سامنے تحذیر اور سبّ کا فرق واضح کرنا ضروری ہے، تاکہ شرعی مقصد اور اخلاقی آداب دونوں محفوظ رہیں۔ اگر علماء و داعیان اس معاملے میں کوتاہی برتیں گے تو پھر ہمارے طبقے میں بھی وہی ہوگا جیسے محرم میں ایک طبقہ صحابہؓ و تابعینؒ پر سب و شتم کرتا ہے۔ اس طرح تو سب و شتم کی ممانعت والی احادیث کا وزن و وقار ہی ختم ہو جائے گا۔
شارحین نے اسی لیے تو واضح کیا ہے کہ: مردے کے بارے میں خیر/شر کی گواہی ممکن ہے، مردے کو برا بھلا کہنا اور اس کی توہین الگ چیز ہے، جو ممنوع ہے، خاص طور پر مسلمان میت کی بدگوئی سے اہلِ خانہ کی اذیت اور اجتماعی فساد کا اندیشہ ہے۔


صحابہؓ کی تنقیص بہت شدید جرم ہے، ایسے جرم پر ائمہ نے سخت تعبیرات استعمال کر رکھی ہیں حتیٰ کہ امام ابو زرعہؒ نے اسے زندقہ کی علامت کہا ہے۔ یعنی امام ابو زرعہؒ کے قول کا مقصد: صحابہ کی تنقیص کی قباحت واضح کرنا ہے، اور یہ بتانا ہے کہ ایسا طعن عموماً زندیقی/باطنی مقاصد سے ہوتا ہے، مگر معین شخص کے بارے میں حکم لگانا الگ باب ہے۔ کیونکہ شخصِ معین پر حکم لگانے کے لیے شرائط اور موانع کی رعایت لازم ہے، اور پھر فردِ معین پر حکم لگانا اہلِ علم کا کام ہے، عوام کا نہیں۔ شکایت اہلِ علم سے یہی ہے کہ ۔۔۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر عمومی تکفیر/تفسیق اور معین شخص کو فاسق/فاجر قرار دینے کے فرق کو واضح نہیں کیا، جس کا ردّعمل یہی ہے کہ ہر عامی فلاں فلاں پر کافر/فاسق/فاجر کا الزام دھرنے میں آزاد ہو گیا ہے۔


متوفی مولانا کے محبان یا حامیان سبّ و شتم والی احادیث کی دہائی دے کر سوشل میڈیا کے عام مسلمان کو نصیحت کرنے کی جو کوشش فرما رہے ہیں، وہ ایک لحاظ سے صحیح ہے اور دوسرے لحاظ سے غلط بھی۔ صحیح یوں کہ ۔۔۔ بلاشبہ مُردے پر سبّ و شتم کے بارے میں دین نے سخت وارننگ کے ساتھ روکا ہے، جس پر ہر مسلمان کو بلاتخصیص مسلک/طبقہ عمل کرنا چاہیے۔ محبان/حامیان کا یہ موقف غلط اس لیے بھی لگتا ہے کہ جب ان کے ممدوح، صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) پر تبرا بازی کر رہے تھے، تب آپ سب نے ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟ یا اگر کسی سبب نہیں لیا تھا، تو آج ٹھنڈے دل سے قبول کیجیے کہ ہاں، ہمارے مولانا سے فلاں فلاں غلطی ہوئی ہے۔ دین کا درد دل میں بسا ہے تو شخصیت پرستی کے بُت کو توڑئے اور اپنے ممدوح کی خامیوں، کوتاہیوں، کمزوریوں، گناہوں کا کھلے عام اعتراف کیجیے۔


اختتامیہ:

پچھلے دنوں ہمارے ایک عزیز صحافی دوست (پڑوسی ملک کے ممتاز کالم نگار) نے جب مولانا کی موت پر ہنگامہ آرائی دیکھی تو نہایت بددل ہوئے اور اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ مرنے والا مسلمان تھا، اس کی مغفرت کی دعا کیجیے یا کم از کم تین دن تو رک جائیے۔۔۔ مگر پھر کسی نے انہیں ایسی ویڈیوز بھیجیں جن میں صحابہ کرام جیسی متبرک ہستیوں کی، متوفی مولانا نے سخت تنقیص کی تھی، ویڈیوز دیکھنے کے بعد کالم نگار محترم کی سٹی پٹی گم ہوئی اور انہوں نے اپنی دعائے مغفرت والی پوسٹ حذف کر ڈالی۔
دوسرا واقعہ۔۔۔ پرسوں ایک تقریب میں ایک قریبی عزیز (رشتے میں بڑے مگر عمر میں چھوٹے) سے ملاقات ہوئی جو ایک زمانے میں ندوہ میں متوفی مولانا کے براہ راست شاگرد تھے۔ کسی نے مجھے ان تمام بیہودہ ویڈیوز کا تحریری متن بھیجا تھا، جسے پڑھنے کے بعد میری بھی سٹی پٹی گم تھی۔ میں نے اپنے عزیز کے سامنے نہایت سخت لہجے میں اعتراضات اٹھائے اور متوفی مولانا کی سنگین قسم کی گرفت کی۔ عزیز محترم خاموشی سے سنتے رہے اور گفتگو کے اختتام پر بس اتنا کہا:
"عامله الله بما يستحق"
(خدا ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جس کے یہ مستحق ہیں)

*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
3/جولائی/2026ء

Keywords: Islamic guidance, Quranic teaching, avoiding abuse, false accusation, religious ethics, speech etiquette, Islamic adab, respectful dialogue, Quran verse explanation, slander and abuse, Muslim blog, moral guidance, ethical communication, Urdu Islamic blog
Adab in Speech
Islamic Guidance on Avoiding Abuse, False Accusation, and Speaking with Wisdom

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں