جانور بھی امت ہیں، مگر کیا ان میں رسول بھی آئے؟ - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2026/09/14

جانور بھی امت ہیں، مگر کیا ان میں رسول بھی آئے؟

animals-ummah-quran-animal-messengers-textual-analysis

عمران شاہد بھنڈر کے حالیہ مضمون (جانور بھی اُمت ہیں : قرآنی آیت کی ڈی کنسٹرکشن) کو پڑھتے ہوئے مجھ ناچیز کو بھی تقریباً پچیس برس قبل کا ربوہ جالیات ریاض کا تعلیمی دور یاد آ گیا (دعوت و تبلیغ کا پانچ درجوں پر مشتمل کورس، ریاض سعودی عرب)۔ اس وقت ایک استاذ محترم سے تقریباً اسی طرز کا سوال میں نے بھی کیا تھا کہ اگر جانور بھی امت ہیں تو پھر ان کے رسول کہاں گئے؟ مولانا نے عمران بھنڈر اور مبشر زیدی کی طرح ہنس کر فرمایا تھا کہ ارے میاں، گائے، بیل، بکرا مرغی کو تم کاٹ کر نہیں کھا جاتے کیا ۔۔۔ اب کیا پتا فلاں فلاں کو بھی ۔۔۔۔
ویسے تفنن برطرف۔۔۔ مولانا نے ایک بہترین رہنمائی کی تھی کہ شرح/تفسیر اگر براہ راست علماء سے استفادے کا موقع نہ بھی ملے تو تمام متقدمین و متاخرین کی تفاسیر مکتبہ شاملہ پر دستیاب ہیں، حصولِ علمِ دین کا اتنا ہی شوق ہے تو تحقیق کا پہلا مصدر انہیں کو بناؤ۔ سو اس غریب نے دھڑا دھڑ تمام کتب تفاسیر، احادیث شروحات کی (صرف) ورڈ فائلیں شاملہ سے اس لیے ڈاؤن لوڈ کر لیں کہ سرچنگ میں آسانی ملے۔ مگر بعد کو ریاض کے ایک اور خیرخواہ عادل سہیل بھائی نے توجہ دلائی کہ ورڈ فائلوں کا بغیر پروف ریڈ شدہ ہونے کے امکانات قوی ہیں لہذا اصل کتب کی براہ راست اسکین شدہ پی۔ڈی۔ایف فائلیں کو ترجیح دی جائے۔ خیر یہ بھاری ذمہ داری بھی اٹھا لی گئی تھی۔


بھنڈر صاحب کا بنیادی مقدمہ بالکل درست ہے کہ قرآن اور حدیث میں جانوروں اور پرندوں کے لیے "امم" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ (الانعام - 6:38)
لَولا أنَّ الكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ (ترمذی-1486 ، صحیح للمحدث : شعيب الأرناؤوط)
مگر ہماری شکایت ہے کہ بھنڈر صاحب قرآن کے اردو مترجمین پر خواہ مخواہ غصہ کر گئے ہیں۔
اردو مترجمین نے ملتے جلتے متبادل دئے ہیں۔ احمد رضا بریلوی (امتیں)، مودودی (انواع)، محمد جوناگڑھی (گروہ)، فتح جالندھری اور احمد علی (جماعتیں)، تقی عثمانی (اصناف)، حسین نجفی (اقسام اور گروہ)۔ قرآنی متن کے سیاق کے حساب سے مناسب متبادل اگر یہی نہیں ہیں تو پھر اور کیا ہو سکتے ہیں؟ اس کی شہادت تو لسان العرب کے علاوہ عربی تفاسیر سے بھی ملتی ہے۔ ابن کثیر اور قتادہ کے علاوہ اولین مفسرین میں شامل تابعی مجاہد جب "أصناف مصنفة تعرف بأسمائها (ناموں سے پہچانی جانے والی مختلف اصناف)" جیسی تشریح کرتے ہیں تو بعد کے مترجمین پر "لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا" جیسا رکیک الزام کیونکر لگایا جا سکتا ہے؟
بھئی ہم تو کہنا چاہیں گے کہ۔۔۔ "جماعت"، "گروہ"، "نوع" اور "صنف" ترجمہ نہیں بگاڑتے بلکہ بعض سیاق میں اردو کے لفظ "امت" سے زیادہ واضح مفہوم دیتے ہیں۔


بھنڈر صاحب نے امم امثالکم (تم جیسی امت) سے غالباً یہ فرض کر لیا ہے کہ: انسانوں اور جانوروں کی یہ مماثلت رسالت، تکلیف اور اخلاقی ذمہ داری تک پھیلی ہوئی ہے۔
کیا تمام قدیم مفسرین ایسی منطق کی تائید کرتے ہیں؟
الجبرا کا ایک موٹا سا اصول ہے کہ:
A is like B in some respect
کا یہ منطقی نتیجہ نہیں نکلتا کہ:
A is like B in every relevant respect
لہذا اگر قرآن نے جانوروں اور انسانوں کے درمیان "اُمم ہونے" کی مماثلت بیان کی ہے تو "رسالت میں مماثلت" ثابت کرنے کے لیے الگ سے دلیل درکار ہوگی۔ بھنڈر صاحب پر ایسی دلیل فراہم کرنا لازم ہے۔


دوسری بات۔۔۔
الانعام (6:38) اور النحل (16:36) کی آیات کو ملا کر اگر بھنڈر صاحب نتیجہ نکالتے ہیں کہ "ہر امت میں جب رسول آیا ہے تو جانوروں میں بھی آیا ہوگا"
ہمارا موقف ہے کہ ایسا استنباط تو اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب یہ ثابت کر دیا جائے کہ متذکرہ دونوں آیات میں لفظ "امۃ" ایک ہی معنوی دائرے میں استعمال ہوا ہے۔
حالانکہ قرآن ایسے خودساختہ مفروضے کو رد کرتا ہے۔ دو حوالے پیش خدمت ہیں:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً (النحل، 16:120)۔ یعنی: ایک فرد (ابراہیمؑ) کو امت کہہ دیا گیا۔
وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ (یوسف، 12:45)۔ یعنی: لفظ امت، مدتِ زمانہ کے معنی میں استعمال ہوا۔


سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ (النحل، 16:120) والی فردِ واحد امت میں کون سا الگ رسول آیا تھا؟
ہم جیسا عام قرآنی فہم رکھنے والا بندہ بھی جانتا ہے کہ لفظ کا اشتراک، مفہوم کی مکمل یکسانیت کو ثابت نہیں کرتا۔ یعنی، لفظ ایک ہی ہو تب بھی سیاق و محل کے لحاظ سے اس کے معنی اور مصداق بدل جاتے ہیں۔ اس نکتے کو ایک سادہ مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی کہے کہ: "پرندوں کی ایک جماعت آسمان میں اڑ رہی تھی" اور یہ بھی کہ "ہر جماعت نے اپنا نمائندہ پارلیمان میں بھیجا۔" اب اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پرندوں نے بھی پارلیمان میں اپنا نمائندہ بھیجا ہوگا، بھلا کیسے درست کہلایا جا سکتا ہے؟ کیونکہ دونوں جملوں میں لفظ "جماعت" ایک ہونے کے باوجود اس کا مفہوم اور مصداق مختلف ہے۔ بعینہ یہی لغزش اس وقت پیدا ہوگی ہے جب قرآن میں لفظ "امت" کے مختلف سیاق و محل کو نظرانداز کر کے ہر جگہ اس کا ایک ہی مفہوم فرض کر لیا جائے۔


بھنڈر صاحب فرماتے ہیں کہ:
متن کی تفہیم کا واحد ذریعہ متن خود ہوتا ہے۔ متن کی ڈی کنسٹرکشن 'اندر' سے ہوتی ہے، نہ کہ باہر سے۔
مگر سوال اٹھے گا کہ کیا یہ ڈی کنسٹرکشن کا واحد اصول ہے؟ جبکہ "انٹرنیٹ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی" تو اس اصول کو وسیع تر تناظر میں بیان کرتا ہے:

Since the distinction between what is inside the text (or painting) and what is outside can itself be deconstructed according to the same principles, deconstruction is, like Destruktion, an historicizing movement that opens texts to the conditions of their production, their con-text in a very broad sense, including not only the historical circumstances and tradition from which they arose, but also the conventions and nuances of the language in which they were written and the details of their authors’ lives.

بالا اصول تو خود وضاحت کر رہا ہے کہ:
متن کے اندر اور باہر کی تقسیم قطعی نہیں، بلکہ یہ تقسیم بھی ڈی-کنسٹرکشن کے عمل سے گزرتی ہے۔ پھر تاریخی حالات، روایت، زبان کے مروجہ طریقِ استعمال اور حتیٰ کہ مصنف کی زندگی کی تفصیلات کو بھی متن کے وسیع تر سیاق و پس منظر کا حصہ قرار دیتی ہے۔


چلیے ہم مان لیتے ہیں کہ یہ ایک فلسفیانہ اختلاف ہے۔ لیکن پھر قرآن کی ایک اور آیت مشکل پیدا کر جاتی ہے۔
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ (النحل، 16:44)۔
قرآن کے اپنے بیان کے مطابق رسول کا ایک منصب 'تبیین' بھی ہے۔ جمہور مفسرین (بطور خاص بغوی کی تفسیر) نے اس سے محض وحی کی ترسیل نہیں، بلکہ اس کے معانی و احکام کی توضیح، مجمل کی تفصیل، مشکل کی تشریح اور قول و عمل کے ذریعے اس کی عملی صورت واضح کرنا بھی مراد لیا ہے۔ (واضح رہے، غامدی صاحب کا انفرادی موقف یہاں زیرِ بحث نہیں)۔
لہذا اگر رسول کی توضیح کو محض "خارجی انسانی مداخلت" کہہ کر اصولاً خارج کر دیا جائے تو یہ فیصلہ بھی متن کے باہر سے متن پر نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ خود متن اپنے نبی کو مبیّن مان رہا ہے۔
اب بھنڈر صاحب ازراہ کرم ہمیں بتائیں کہ اس داخلی تناقض کو کیسے حل کیا جائے کہ: متن کو خود کفیل ثابت کرنے کے لیے خود متن ہی کے بیان کردہ ماخذِ توضیح کو کیسے نظرانداز کیا جائے؟


بھنڈر صاحب نے اگر یہ کہا ہے کہ: متن کی تفہیم کا واحد ذریعہ متن خود ہوتا ہے۔ تو ہماری شکایت ہے کہ آگے چل کر وہ خود اپنے اس اصول کو فراموش کر جاتے ہیں۔ انہوں نے النحل کی آیت ادھوری نقل کی ہے، جبکہ مکمل یوں ہے:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (النحل، 16:36)۔
تقی عثمانی ترجمہ: اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر اس ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو اللہ نے ہدایت دی، اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی مسلط ہو گئی۔ تو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟


یہاں خود آیت کے اندر موجود معنوی ربط پر غور کیجیے، صاف پتا چل جائے گا کہ یہاں حیوانی انواع کا بیان نہیں، مکلف انسانی اقوام کا بیان ہے۔ عبادتِ الٰہی، طاغوت سے اجتناب، ہدایت و گمراہی، رسولوں کی تکذیب اور منکر قوموں کا انجام۔۔۔ کیا یہ پورا سیاق ایسی انسانی اقوام سے متعلق نہیں لگتا جن کے سامنے رسول کی دعوت پیش ہوئی اور جو اسے قبول یا رد کرنے کی ذمہ دار تھیں؟
لہذا بھنڈر صاحب کے اصول "متن کو اندر سے سمجھنے" کو مدنظر رکھا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ سورہ النحل کی اس آیت کے لفظ "ہر امت" کو سورہ انعام (آیت:38) میں مذکور جانوروں کی جماعتوں پر منطبق کرنا خود سورہ النحل کی اس مکمل آیت:36 کے سیاق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
امام فخرالدین رازی تو اپنی تفسیر (مفاتیح الغیب، سورہ انعام 6:38) میں صاف صاف لکھتے ہیں: "آیت یہ تو بتاتی ہے کہ جانور اور پرندے ہمارے امثال ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ مماثلت کس معنی اور کس پہلو میں ہے؟" اور پھر وہ قطعی طور پر اس امکان کو رد کرتے ہیں کہ ہر اعتبار سے مماثلت مراد ہو۔ ورنہ صورت، صفت اور خلقت میں بھی مکمل مماثلت ماننی پڑے گی۔


ثابت ہوا کہ بھنڈر صاحب کا یہ استدلال کہ جانور اُمتیں ہیں، ہر اُمت میں رسول آیا، لہذا جانوروں کی ہر نوع میں بھی رسول آیا ہوگا، ایک بنیادی لغزش پر قائم ہے۔
سورہ النحل میں "ہر امت" کا ذکر عبادت، طاغوت، ہدایت و گمراہی، تکذیب اور عذاب کے ایسے سیاق میں ہوا ہے جو رسول کی دعوت کی مخاطب انسانی اقوام سے متعلق ہے۔ اسے سورہ انعام میں مذکور جانوروں کی جماعتوں تک پھیلانے کے لیے علیحدہ قرآنی دلیل درکار ہے۔ اس کے برعکس قرآن خود کہتا ہے:
"ہم نے آپ سے پہلے مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا" (یوسف: 109 ، الانبیاء: 7)۔
اس لیے "بکریوں میں بکرا رسول" قرآن کا اخذ کردہ نتیجہ نہیں، بلکہ لفظ "اُمت" کے مختلف معنوی استعمالات کو یکساں سمجھ لینے سے پیدا ہونے والا ایک مفروضہ ہے۔


ہم بھنڈر صاحب کے اس موقف کو یقیناً مانتے ہیں کہ: قرآن جانوروں کو 'امم' کہتا ہے لہذا اس لفظ کو محض انسانی مذہبی امت تک محدود کرنا درست نہیں۔ جانوروں کے حشر کا قرآنی تصور بھی موجود ہے اور صحیح حدیث میں جانوروں کے درمیان قصاص کا ذکر بھی۔
بس کہنا صرف اتنا ہے کہ:
منطق میں کسی غیر ثابت مقدمے کو انتہائی نتیجے تک لے جانا اس مقدمے کو ثابت نہیں کرتا !!


*****
از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
14/ستمبر/2026ء

Keywords: Quran animals ummah, animals in Quran, animal communities in Quran, animal messengers in Quran, Ummah meaning in Quran, Quran 6:38, Surah Al Anam 6:38, Quran 16:36, every nation a messenger, Quranic textual analysis, Quran interpretation, classical Quran tafsir, Fakhruddin Razi tafsir, Tafsir al Qurtubi, Tafsir al Baghawi, meaning of Ummah, Quranic semantics, Quran and animals, contextual interpretation of Quran, messengers in Quran
Are Animals Ummahs in the Quran?
Animals as Ummahs in the Quran: Does Every Animal Community Have a Messenger?

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں