اترن - افسانے از واجدہ تبسم - تعارف کتاب - Hyderabad Urdu Blog | Hyderabadi | Hyderabad Deccan | History Society Culture & Urdu Literature

Comments system

[blogger][disqus][facebook]

2019/10/16

اترن - افسانے از واجدہ تبسم - تعارف کتاب

utran-wajida-tabassum

حیدرآبادی ماحول پر لکھی گئیں واجدہ تبسم کی 15 یادگار کہانیوں کا مجموعہ "اترن" جنوری 1977 میں پہلی بار شائع ہوا تھا۔
حیدرآبادی ماحول پر لکھی ہوئی یہ کہانیاں بیک وقت واجدہ تبسم کی رسوائی کا باعث بھی بنی ہیں اور قدردانی کا بھی۔
واجدہ تبسم کے اس یادگار و بدنام افسانوی مجموعہ کا تعارف پیش خدمت ہے۔

اس مجموعہ کے پیش لفظ کے تحت مصنفہ لکھتی ہیں:
رسوائی کا مجھے کوئی ایسا ڈر نہیں لیکن الزامات کی فہرست جب ضرورت سے زیادہ لمبی ہو جائے تو قلم اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے ۔۔۔
  • واجدہ نے حیدرآبادی تہذیب کا مذاق اڑایا ہے
  • واجدہ نے حیدرآبادی اور دکنی بولی کا غلط استعمال کیا ہے، چٹخاروں کی خاطر زیادہ ۔۔ وہاں کی تہذیب اور کلچر کو اجاگر کرنے کی خاطر کم ۔۔ بہت کم۔
  • واجدہ نے نوابوں کے کردار دل سے تراشے ہیں
  • واجدہ کے یہ افسانے شریف بہو بیٹیوں کے پڑھنے کے لائق نہیں ہیں
  • واجدہ نے حیدرآباد کی پاکیزہ تہذیب کو آڑ بنا کر فحش نگاری کی انتہا کر دی ہے۔
  • واجدہ کو حیدرآباد دکن کے بارے میں خاک بھی معلومات نہیں ہیں ۔۔ پتا نہیں کہاں کہاں کے خیالی پیکر تراشے ہیں
  • ۔۔۔ یہ اور ایسے ہی کتنے الزام ۔۔۔۔۔
جو لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نے حیدرآبادی نوابوں پر الزام لگائے ہیں ۔۔۔ دل سے خیالی پیکر تراشے ہیں، انہیں بدنام کیا ہے، جا بےجا تہمتیں لگائی ہیں ۔۔۔ ان میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے حیدرآباد دکن میں ایک سال بھی گزارا ہے؟ یا اگر ساری زندگی بھی گزاری تھی تو کیا آنکھیں کہیں رہن رکھ دی تھیں ۔۔۔؟
میرے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ میں اپنی آنکھوں کے ساتھ جیتی ہوں۔
قدرت کا ایک بڑا اٹل قانون یہ بھی ہے کہ ظلم کا پیمانہ جب بھر جاتا ہے تو اس کا ان دیکھا ہاتھ اس پیمانے کو اوندھا دیتا ہے۔ حیدرآباد دکن کی شاندار تاریخ کا دردناک المیہ میں نے ہی نہیں سبھوں نے دیکھا ہے۔
لوگ اسے سیاسی روپ دیتے ہیں، دیتے رہیں۔
میں اپنی زبان میں اسے آہوں کی لپیٹ کہتی ہوں، جس نے تاریخ کا نقشہ بدل دیا۔
لوگ مجھ سے یہ بھی کہتے ہیں کہ گڑے مردے کیوں اکھاڑتی ہو؟ اور اس کا فائدہ کیا ہے؟
گڑے مردے اکھاڑنے کا جہاں تک سوال ہے تو میں نہ لکھتی، کبھی کوئی اور لکھ دیتا ۔۔۔!
رہی فائدے کی بات تو وہ یہ ہے کہ نئی نسل کو پتا تو چلے کہ ان کے بزرگوں کی کن زیادتیوں کی سزا وہ جھیل رہے ہیں؟
لوگوں کو میری ان کہانیوں میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، مجھے کوئی نقصان نظر نہیں آتا ۔۔۔!!

واجدہ تبسم کی یہ کتب بھی پڑھیے:
واجدہ تبسم کے شاہکار افسانے
واجدہ تبسم کی کہانی
نتھ کی عزت - ناول از واجدہ تبسم
بند دروازے - بچوں کی کہانیاں از واجدہ تبسم

تعداد صفحات: 248
اترن ، افسانے از: واجدہ تبسم
Utran - Wajida Tabassum

3 تبصرے: